خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 34 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 34

خطبات مسرور جلد 12 34 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جنوری 2014ء ایک شہر ہے۔اُس زمانے میں وہاں جماعت کا زرعی پراجیکٹ تھا۔تو جس گھر میں میں رہتا تھا اُس کی باہر کی طرف، نہ صرف باہر کی طرف بلکہ اندر کی طرف بھی چار دیواری نہیں تھی۔تمام گھر جو تھے وہ بغیر چار دیواری کے ہی تھے۔یہاں بھی عموماً ایسے بنے ہوتے ہیں۔بعضوں نے اپنے اندر کے صحنوں میں چار دیواری بنائی ہوئی تھی جس طرح یہاں کے backyard ہوتے ہیں۔بہر حال ہمارا گھر ایسا تھا کہ نہ اُس کے اندر صحن تھا نہ باہر، ہر طرف سے کھلا تھا۔چھوٹی سی جگہ تھی جہاں گاڑی کھڑی کی جاتی تھی۔کوئی دیوار اور گیٹ نہیں جیسا کہ میں نے بتایا۔اُن دنوں میں وہاں کے معاشی حالات خراب تھے۔اگر کوئی چیز باہر کھلے میں پڑی ہو تو چوریاں بھی ہوتی تھیں۔اب تو یہاں بھی چوریاں شروع ہوگئی ہیں بلکہ یہاں تو دروازے توڑ کے چوریاں ہونے لگ گئی ہیں، ڈا کے پڑنے لگ گئے ہیں۔بہر حال امن کی حالت اُس وقت خراب تھی اس وجہ سے کہ معاشی حالات خراب تھے۔وہاں ہم نے ایک watch man رکھا ہوا تھا، اُس کو میں نے رکھا تو رات کے لئے آتا تھا اور اس کو میں نے خاص طور پر کہا کہ ہماری گاڑی جو پک اپ تھی باہر کھڑی ہوتی ہے۔اس کا ٹائر یا ہر ہی پڑا ہوتا ہے کیونکہ اس کی ایسی حالت تھی کہ اُس کے اندر تبدیلی کر دی گئی تھی جہاں ٹا ئر رکھنے کی جگہ ہوتی ہے وہ وہاں رکھا نہیں جا سکتا تھا۔بہر حال اُس کو خاص طور پر میں نے یہ کہا کہ ٹائر بہت چوری ہوتے ہیں اس کا خیال رکھنا۔تو اکثر یہی ہوتا تھا کہ وہ شراب کے نشے میں آتا تھا اور ٹائر کو باہر نکالتے وقت ٹائر سے پہلے خود زمین پر گرا ہوتا تھا۔تو بہر حال ایک دن میں نے اُسے دیکھا کہ اوندھے منہ پڑا ہوا ہے۔اُس دن تو بہت ہی نشے میں تھا۔اُس وقت چوکیدارا اُس نے کیا کرنا تھا۔وہ اول فول بک رہا تھا۔اُس وقت تو مصلحت کا تقاضا یہی تھا کہ کچھ نہ کہا جائے کیونکہ اُس نے پھر مجھے بھی برا بھلا کہنا شروع کر دینا تھا۔اگلے دن جب اُس کا نشہ تھوڑا کم ہوا یا اترا تو میں نے اُسے کہا کہ تم جاؤ اب تمہیں نہیں رکھنا۔بڑی منتیں سماجتیں کرنے لگا۔خیر پینا تو بہر حال وہ نہیں چھوڑ سکتا تھا لیکن اُس نے یہ عقل مندی کی کہ یا تو وقت سے پہلے اتنا وقت دے دیتا تھا کہ جب یہاں ڈیوٹی پر آنا ہے تو نشہ کم ہو جائے یا پھر اُس وقت حساب سے پیتا ہوگا ، نشہ زیادہ ظاہر نہ ہو۔لیکن بہر حال نشئی جو ہیں وہ قابو تو رکھ نہیں سکتے۔کچھ عرصے بعد پھر وہی حالت ہونی شروع ہوگئی۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ نشے میں انسان کو کچھ پتا نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہا ہے، کیا بول رہا ہے۔اگلے دن جب اُسے پوچھو کہ تم یہ یہ کہتے رہے تو صاف انکاری ہوتا تھا کہ میں تو بڑے آرام سے رہا ہوں۔میں نے تو ایسی بات ہی کوئی نہیں کی۔تو ایسے اچھے بھلے انسان ہوتے ہیں کہ نشہ جب اترتا ہے تو مانتے بھی نہیں۔