خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 391 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 391

خطبات مسرور جلد 12 391 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جون 2014 ء خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہاں کچھ لڑکے لائے جائیں جن کی تربیت کی جائے۔تو جیسا کہ میں نے بتایا اس وقت گھانا سے دو چھوٹی عمر کے چودہ پندرہ سال کے بچے ، وہاب آدم صاحب اور بشیر بن صالح صاحب پاکستان بھجوائے گئے۔اور دونوں بڑی محنت اور لگن سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔1957ء میں عزیزم بشیر بن صالح ربوہ میں گرمی کے باعث بیمار ہو گئے۔ان کو واپس گھانا بھجوایا گیا لیکن یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوئی اور 16 نومبر 1958ء کو صالح صاحب جو تھے وہ انیس سال کی عمر میں وفات پاگئے اور پھر وہاب صاحب اکیلے جامعہ میں پڑھتے رہے۔آٹھ سال تک یہیں رہے۔شاہد کی ڈگری حاصل کی اور مرکزی مبلغ بن کر پھر گھانا گئے۔ان کے جانے کے بعد پھر جماعت اس وقت تک کچھ بڑھ بھی چکی تھی۔لوگوں کو جوش اور جذبہ بھی پیدا ہوا اور پھر انہوں نے اپنے بچے جامعہ احمد یہ میں بھجوانے شروع کئے۔اس کے بعد پھر آٹھ دس مبلغین یہاں سے بن کے گئے۔پھر بعض پابندیاں لگ گئیں۔اب تو وہیں جامعہ میں خود ہی مبلغین تیار ہور ہے ہیں بلکہ انٹرنیشنل جامعہ بن گیا ہے جہاں افریقہ کے مختلف ممالک سے لڑ کے آتے ہیں اور شاہد مبلغ کا کورس پاس کرتے ہیں۔جب یہ ربوہ میں تھے اس وقت گھانا کے سفیر ایک موقع پر یہاں آئے۔انہوں نے اُن کو بتایا کہ ربوہ کس طرح آباد ہوا، کیسی بنجر زمین تھی۔کس طرح لوگوں نے قربانیاں کیں۔یہ ساری تفصیل اس انداز میں بیان کی کہ وہ سفیر صاحب کہنے لگے کہ اگر کوئی شخص خدا پر یقین نہ رکھتا ہو اور اسے اللہ تعالیٰ کی حقانیت پر ایمان نہ ہو تو وہ یہ واقعات سن کے یقیناً خدا کی ہستی پر ایمان لائے گا کہ کس طرح ربوہ آباد ہوا۔کوئی بھی موقع تبلیغ کا جانے نہیں دیتے تھے۔اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے ربوہ میں ابتدائی زمانے میں وقت گزارا۔کہتے ہیں ان دنوں میں بجلی بھی نہیں ہوتی تھی۔پینے کا پانی کوئی نہیں تھا۔دُور سے لا نا پڑتا تھا۔کوئی بلڈنگز نہیں تھیں اور ہوٹل کی چھتیں بھی کچی تھیں۔فرش بھی کچا تھا۔بارش ہوتی تو چھت ٹپکتی تھی۔فرش پر پانی کھڑا ہو جاتا تھا۔بلکہ مذاق میں بتایا کرتے تھے کہ ہمارے جو صندوق تھے، box تھے وہ بھی پانی میں تیر نے لگ جاتے تھے۔تو اس وقت یہ حال تھا۔پھر احمد نگر میں بلڈ نگ لی ، وہاں جامعہ شروع ہوا۔غیر ملکیوں کا بھی ایک ہوسٹل تھا تو اس میں انگلستان سے بھی ایک شخص تھا، ایک جرمنی سے عبدالشکور کنزے صاحب وہاں تھے۔امریکہ سے ایک وائٹ امریکن تھے، ایک افریقن امریکن تھے۔ٹرینیڈاڈ سے بھی ایک صاحب آئے ہوئے تھے۔چین سے عثمان چینی صاحب، ابراہیم وان اور ادریس وان صاحب تھے۔تو مختلف لوگوں کا یہ ہوٹل تھا جو اس زمانے میں مختلف ملکوں سے آئے اور وہاں رہے جن میں