خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 390
390 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جون 2014ء خطبات مسرور جلد 12 (K۔Adam) صاحب اور والدہ عائشہ کو اوورو ( Ayesha Akua Woro) صاحبہ نے احمدیت قبول کی تھی۔اور جس زمانہ میں بشارت احمد بشیر صاحب گھانا میں امیر جماعت یا مبلغ تھے اس وقت وہاب صاحب کے والد سلیمان کے آدم صاحب وہاں معلم ہوتے تھے۔اور وہاب آدم صاحب نے اپنی ہوش میں اپنے والد کو نہیں دیکھا۔چھوٹی عمر میں ہی ان کے والد وفات پاگئے تھے۔والدہ نے بتایا کہ ان کے والد کی شدید خواہش تھی کہ وہاب صاحب جماعت کے مبلغ بنیں۔چنانچہ والد صاحب کی خواہش پوری کرنے کے لئے والدہ نے ان کو بشارت بشیر صاحب کے ساتھ ربوہ بھجوادیا۔بلکہ انہوں نے اپنے والد کی کبھی تصویر بھی نہیں دیکھی تھی۔کچھ عرصہ پہلے کسی دوست نے ایک تصویر دکھائی جس میں وہاب صاحب کے والد کی تصویر تھی تو تب ان کو پتالگا کہ یہ میرے والد ہیں۔وہاب صاحب بروفئی ایڈور (Brofoyedru) گاؤں میں جو اشانٹی ریجن کے اڈانسی (Adansi) ڈسٹرکٹ میں ہے، دسمبر 1938 ء میں پیدا ہوئے تھے اور ابتدائی تعلیم انہوں نے یونائٹڈ مڈل سکول سے حاصل کی اور احمد یہ سیکنڈری سکول کماسی میں پڑھے۔وہاں سے تعلیم مکمل کی یا کچھ عرصہ بہر حال پڑھتے رہے۔پھر زندگی وقف کر دی اور آپ کو 1952ء میں جامعہ احمد یہ ربوہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھجوا دیا گیا۔1960ء میں آپ نے جامعہ احمد یہ ربوہ سے شاہد کی ڈگری حاصل کی۔واپس گھانا گئے اور وہاں آپ کا مختلف جگہوں پر بطور ریجنل مشنری تقرر ہوا۔سب سے پہلے آپ نے 1969 ء تک برونگ آہا فو (Brong Ahafo) ریجن میں خدمت کی توفیق پائی۔اس کے بعد سالٹ پونڈ گھانا میں جامعتہ المبشرین کے پرنسپل بنے۔اور اس وقت مشنوں کا یہ حال تھا کہ چھوٹے چھوٹے مٹی کے گھر ہوتے تھے جن میں غسل خانے کوئی نہیں تھے۔چٹائیوں کو کھڑا کر کے اور لکڑی کے ڈنڈوں پر غسل خانے بنائے جاتے تھے۔اب تو افریقہ میں یہ تصور نہیں۔انہوں نے ایک دفعہ مجھے بتایا کہ غسل خانے کی یہ حالت تھی کہ دو اینٹیں رکھ کے پانی کی بالٹی کہیں سے لا کے تو فسل کر لیا کرتے تھے۔بالکل ہی ابتدائی حالات تھے۔بہر حال اس کے بعد 1971ء میں وہاب صاحب کی تقرری یو کے (UK) میں بطور نائب امام مسجد فضل لندن ہوئی۔1974 ء تک آپ نے یہ ذمہ داری ادا کی۔1975ء میں آپ کو امیر دمشنری انچارج گھانا مقرر کر دیا گیا اور تقریباً 39 سال وفات تک یہی خدمت سرانجام دیتے رہے۔یہ ابتدائی تاریخ لکھنے والے بتاتے ہیں کہ جب گھانا میں جماعت کی تعداد بڑھنی شروع ہوئی تو اس وقت یہ سوچا گیا کہ بجائے معلمین کے مقامی مبلغین کی تعداد کو بڑھایا جائے اور اس کے لئے حضرت