خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 33 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 33

خطبات مسرور جلد 12 33 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جنوری 2014ء پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تو اُن کی حالت کس طرح پلیٹی، کیسا انقلاب اُن میں پیدا ہوا، کیسی قوت ارادی اس ایمان نے اُن میں پیدا کی؟ اس کے واقعات بھی تاریخ ہمیں بتاتی ہے تو حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح اتنی جلدی اتنا عظیم انقلاب اُن میں پیدا ہو گیا؟ ایمان لاتے ہی اُنہوں نے فیصلہ کر لیا کہ اب دین کی تعلیم پر عمل کے لئے ہم نے اپنے دل کو قوی اور مضبوط کرنا ہے۔انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ خدا تعالیٰ کے احکامات کے خلاف اب ہم نے کوئی قدم نہیں اُٹھانا۔انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر حکم ہمارے لئے حرف آخر ہے۔اُن کا یہ فیصلہ اتنا مضبوط، اتنا پختہ اور اتنے زور کے ساتھ تھا کہ اُن کے اعمال کی کمزوریاں اُس فیصلے کے آگے ایک لمحے کے لئے بھی نہ ٹھہر سکیں۔اُن کے حالات ایسے بدلے کہ وہ خطرناک سے خطرناک مصیبت اپنے پر وارد کرنے کے لئے تیار ہو گئے اور نہ صرف تیار ہوئے بلکہ اس قوتِ ارادی نے جو انہوں نے اپنے اندر پیدا کی ،اُن کے اعمال کی کمزوری کو اس طرح پرے پھینک دیا اور اُن سے دور کر دیا جس طرح ایک تیز سیلاب کا ریلا ، تیز پانی کا ریلا جو ہے ایک تنکے کو بہا کر لے جاتا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 443-444 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 10 جولائی 1936 مطبوعہ فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ) ابھی شراب کی مثال دی گئی ہے کس طرح وہ شراب پیتے تھے اور کس قدر اُن کو اس بات پر فخر تھا۔جب اس کا نشہ چڑھتا ہے تو کیا حالت انسان کی بنا دیتا ہے۔ان ملکوں میں رہنے والے یہاں کے شرابیوں کے نمونے اکثر دیکھتے رہتے ہیں۔ہماری مسجد فضل کی سڑکوں پر بھی ایک شرابی پھرتا ہے اور اُس کے پاس سوائے شراب کے ٹن کے اور کچھ نہیں ہوتا۔گندے کپڑے لیکن شراب خرید لیتا ہے۔مجھے یہ بھی پتا چلا ہے کہ وہ پڑھا لکھا بھی ہے اور شاید کسی زمانے میں انجینئر بھی تھا۔بہر حال اب تو کچھ کام نہیں کرتا، ویسے بھی اُس کی عمر ایسی ہے۔کونسل سے جو کچھ ملتا ہے اُس کو ، حکومت سے شاید جو بھی خرچہ ملتا ہو، وہ سب شراب پر خرچ کر دیتا ہے۔سڑکوں پر زندگی گزارتا ہے۔نشے نے اُس کی دماغی حالت بھی خراب کر دی، بیچارہ بالکل مفلوج ہو گیا۔نشے کی حالت میں جب وہ ہو تو اُسے دیکھ کے ڈر لگتا ہے۔کئی دفعہ میں نے دیکھا ہے کہ بعض دفعہ وہ عورتوں کو راہ چلتے روک لیتا ہے، باوجود یکہ وہ اس ماحول میں رہنے والی انگریز عورتیں ہیں لیکن اُن کے چہروں سے خوف ظاہر ہورہا ہوتا ہے۔تو بہر حال شراب کے نشے نے اُس کی یہ حالت بنائی ہے۔ایسے شرابی بھی عام ملتے ہیں جو نشے میں اتنے غصیلے ہو جاتے ہیں کہ ماں باپ کو بھی گالیاں دیتے ہیں۔عجیب عجیب حرکتیں اُن سے سرزد ہوتی ہیں۔مجھے یاد ہے جب میں گھانا میں تھا تو ٹمالے(Tamale) وہاں