خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 30
خطبات مسرور جلد 12 30 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جنوری 2014ء کرتے تھے۔مکرم ناظر صاحب اعلیٰ قادیان انعام غوری صاحب کہتے ہیں کہ میں نے آپ کے ساتھ بنگال و آسام کے متعد د سفر کئے۔پر خطر ماحول میں بھی جلسے اور تقاریر کرنے سے باز نہیں رہتے تھے۔کہتے ہیں تین مرتبہ تو خاکسار کے ساتھ نہایت مخدوش حالات میں سے بحفاظت نکلنے کا اللہ تعالیٰ نے سامان فرمایا۔گاڑی اور سامان وغیرہ کو تو نقصان پہنچا لیکن ممبران محفوظ رہے۔بے دھڑک ہو کے ہر خطرے کی جگہ پر لے جایا کرتے تھے۔موصوف کے ساتھ دورہ کرتے ہوئے ہر علاقے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے تائید و نصرت کے نشانات کا تذکرہ جاری رہتا۔بنگال و آسام میں متعدد جماعتیں مرحوم کے دور میں قائم ہوئیں۔نہایت دلیر اور متوکل اور درویش صفت انسان تھے۔مرحوم موصی تھے۔بہشتی مقبرہ قادیان میں ان کی تدفین ہوئی ہے۔ان کے پسماندگان میں تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ایک بیٹے تو عصمت اللہ صاحب ہیں جو جلسہ سالانہ میں نظمیں وغیرہ پڑھتے ہیں۔جماعت احمدیہ کا ہر فرد تقریبا جانتا ہی ہوگا۔ایم ٹی اے پر بھی ان کی نظمیں آتی ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیوں پر قدم مارنے کی توفیق عطا فرمائے۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 31 جنوری 2014ء تا06 فروری 2014 ءجلد 21 شماره 05 صفحه 05 تا08)