خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 346 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 346

خطبات مسرور جلد 12 346 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جون 2014ء مسجد کی طرف بڑھنا شروع کیا۔کسی پوچھنے والے نے پوچھا کہ یہ آپ کو کیا ہوا ہے جو اس طرح گھسٹ رہے ہیں۔آپ نے یہی جواب دیا کہ اندر سے مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز آئی تھی کہ بیٹھ جاؤ تو میں بیٹھ گیا۔پوچھنے والے نے کہا کہ یہ حکم تو اندر والوں کے لئے تھا۔آپ نے جواب دیا مجھے اس سے غرض نہیں کہ یہ اندر والوں کے لئے ہے یا باہر والوں کے لئے یا سب کے لئے۔میرے کان میں اللہ کے رسول کی آواز پڑی اور میں نے اطاعت کی۔پس یہی میرا مقصد ہے۔ماخوذ از سنن ابی داؤ د کتاب الجمعة باب الامام يكلم الرجل في خطبته حدیث (1091 پس یہ معیار ہیں اطاعت کے جو ہمیں حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔بعض عہد یدار خلیفہ وقت سے جو کوئی ہدایت آتی ہے تو اس پر عمل بھی کر لیتے ہیں لیکن بڑے انقباض سے، نہ چاہتے ہوئے یہ عمل کرتے ہیں۔اور نہ چاہتے ہوئے عمل کرنا کوئی اطاعت نہیں ہے۔اطاعت وہی ہے جو فوری طور پر کی جائے۔اپنی رائے رکھنا کوئی بری بات نہیں ہے۔لیکن جب کسی معاملے میں خلیفہ وقت کا فیصلہ آجائے کہ یوں کرنا ہے تو پھر اپنی رائے کو یکسر بھلادینا ضروری ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں بعض معاملات میں اپنی رائے رکھتا ہوں اور اپنی طرف سے دلیل کے ساتھ خلیفہ اسیح کو اپنی رائے پیش کرتا ہوں لیکن اگر میری رائے رڈ ہو جائے تو کبھی مجھے خیال بھی نہیں آیا کہ کیوں یہ رد ہوئی ہے یا میری رائے کیا تھی۔پھر میری رائے وہی بن جاتی ہے جو خلیفہ وقت کی رائے ہے۔پھر کامل اطاعت کے ساتھ اس حکم کی بجا آوری پر میں لگ جاتا ہوں جو خلیفہ وقت نے حکم دیا تھا۔(ماخوذ از حیات بشر مؤلف شیخ عبد القادر صاحب سابق سوداگر مل صفحہ 323-32 مطبوع ضیاء الاسلام پریس ربود) حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : غسال کی طرح اپنے آپ کو امام کے ہاتھ میں دو۔جس طرح مردہ اپنے آپ کو ادھر ادھر نہیں کر سکتا ، حرکت نہیں کر سکتا ، اس کو نہلانے والا اس کو حرکت دے رہا ہوتا ہے۔(ماخوذ از خطبات نور صفحہ 131 مطبوعہ ربوہ ) اسی طرح کامل اطاعت کرنے والے کا فرض ہے کہ اپنے آپ کو امام کے ہاتھ میں دیدے اور جب یہ معیار ہوگا تو تبھی عہد بیعت نبھانے والے بن سکیں گے تبھی اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے اطاعت کے معیاروں کو حاصل کرنے والے بن سکیں گے۔پس ہم میں سے ہر ایک کو جس نے بیعت کا عہد کیا ہے نہ صرف یہ سوچ پیدا کرنی ہوگی بلکہ اپنے