خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 337 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 337

خطبات مسرور جلد 12 337 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مئی 2014ء دے دی ہے، ایک کی مزید ضرورت ہے میں چاہتا ہوں کہ وہ آپ دیں۔طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ کے لئے سامان وغیرہ بھیجتے رہتے تھے۔جو Stent وغیرہ آپریشن کے لئے ڈالتے ہیں اور کہتے تھے ہسپتال کی خدمت کر کے مجھے بڑا فخر ہے۔پھر یہ بھی چاہتے تھے کہ ربوہ میں مکان بناؤں تا کہ جماعت کی رہائش پر بوجھ نہ بنوں۔بچوں کی تربیت کے بارے میں بھی ان کو تسلی تھی۔باوجود امریکہ میں رہتے ہوئے اللہ کے فضل سے اچھی تربیت ہو رہی ہے کیونکہ خود ذاتی طور پر توجہ دیتے تھے۔ان کے ایک دوست کہتے ہیں کہ ہمارا بڑا پیارا بھائیوں جیسا تعلق تھا۔اس سال ہفتہ کی رات کو ربوہ پہنچے تو فوراً آنے کو کہا۔رات کے دس بجے تھے۔میں نے آرام کرنے کو کہا مگر انہوں نے کہا کہ نہیں ابھی آؤ۔خیر ملاقات ہوئی۔بہت پیار سے ایک جدید لینتھ و سکوپ کا تحفہ پیش کیا جسے خاص طور پر لائے تھے اور پھر نمازوں کے بارے میں قبلے کا رخ وغیرہ پوچھا۔کہتے ہیں رات کو ملاقات ہوئی۔سوا گیارہ بجے تک گفتگو ہوتی رہی۔میں سوا گیارہ بجے اٹھ کے آ گیا اور خدا حافظ کہہ کے رخصت کیا اور چند گھنٹوں کے بعد ہی صبح جب بہشتی مقبرے گئے تو وہیں جام شہادت نوش کیا۔Dawn اخبار کی ویب سائٹ پر ڈاکٹر صاحب کی شہادت پر جماعت احمدیہ کی مخالفت کا پس منظر بیان کر کے یوں ذکر کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر مہدی علی قمر صاحب کوئی عام ڈاکٹر نہیں تھے۔انہوں نے امریکن کالج آف کارڈیالوجی سے ینگ انوسٹی گیٹر (young investigator) کا ایوارڈ حاصل کیا اور سال 2003 ء اور 2004 ء میں امریکہ کے بہترین فزیشنز میں ان کا شمار ہوا۔اس کے علاوہ سال 2005ء، 2006ء، 2007ء میں مسلسل تین سال تک اور 2009ء، 2010ء، 2011 ء اور 2012ء میں مسلسل چار سال تک امریکہ کے بہترین کارڈیالوجسٹ میں ان کا شمار ہوا۔نیز انہیں امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے فزیشن یگنیشن (recognition) کا بھی ایوارڈ ملا۔پھر اخبار والے یہ لکھتے ہیں کہ میں نے انٹرنیٹ پر مہدی صاحب کے ایک پروفائل پر ان کی مسکراتی ہوئی روشن تصویر دیکھی جس کے ساتھ ان کے یہ الفاظ لکھے تھے کہ میں اعلیٰ ترین پیشہ وارانہ معیار کو قائم رکھتے ہوئے مریض کی بہترین دیکھ بھال پر یقین رکھتا ہوں تا کہ ان اداروں کی ترقی میں معاون ثابت ہو سکوں جن سے میں وابستہ ہوں۔میری ترجیح پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو قابلیت ، سچائی اور دیانت داری سے نبھانا ہے اور یقیناً قابلیت ،سچائی اور دیانت داری سے انہوں