خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 28 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 28

خطبات مسرور جلد 12 28 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جنوری 2014ء طرح جب قوت عملیہ مضبوط ہوگی تو وہ قوت ارادی کے ادنیٰ سے ادنی اشارے کو بھی قبول کر لے گی۔حضرت مصلح موعود نے ایک نکتہ یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ یہاں یہ یا درکھنا چاہئے کہ قوت عملیہ کی کمزوری دوطرح کی ہوتی ہے حقیقی اور غیر حقیقی۔غیر حقیقی تو یہ ہے کہ قوت تو موجود ہولیکن عادت وغیرہ کی وجہ سے زنگ لگ چکا ہو اور حقیقی یہ ہے کہ ایک لمبے عرصے کے عدم استعمال کی وجہ سے وہ مردہ کی طرح ہو گئی ہو اور اُسے بیرونی مدد اور سہارے کی ضرورت پیدا ہوگئی ہو۔غیر حقیقی مثال ایسے شخص کی ہے جسے طاقت تو یہ ہو کہ من بوجھ اُٹھا سکے، چالیس کلو وزن اُٹھا سکے لیکن کام کرنے کی عادت نہ ہونے کی وجہ سے جب اُسے بوجھ اُٹھانے کا کہو تو اُسے گھبراہٹ چھڑ جاتی ہے، پریشانی شروع ہو جاتی ہے۔ایسا شخص اگر اپنی طبیعت پر دباؤ ڈالے گا تو پھر بوجھ اٹھانے کے قابل ہو جائے گا اور اُس میں کامیابی حاصل ہو جائے گی۔اور حقیقی کی مثال یہ ہے کہ دیر تک کام نہ کرنے کی وجہ سے انسان میں کام کرنے کی طاقت ہی باقی نہیں رہتی اور اُس میں دس ہیں سیر سے یا کلو سے زیادہ وزن اُٹھانے کی طاقت نہیں رہتی۔تو ایسے شخص کو زائد وزن اُٹھوانے کے لئے مددگار دینا ہو گا۔اُس کی اصلاح کے لئے اُس کی قوت ارادی کو بڑھانے کے لئے اور اُس کی قوت عملی کو بڑھانے کے لئے پھر کچھ اور طریقے اختیار کرنے ہوں گے۔غرض جب طاقت کا خزانہ موجود نہ ہو تو اُس وقت بیرونی ذرائع استعمال کرنے پڑتے ہیں تا کہ کام کو پورا کیا جا سکے۔یہی حال اعمال کی اصلاح کا ہے اور مختلف لوگوں کے لئے مختلف علاجوں کی ضرورت ہے۔ایک ہی علاج ہر ایک کے لئے نہیں ہے۔بعض کے لئے قوتِ ارادی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔بعض کے لئے قوت عملی پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور بعض کے لئے اس صورت میں جبکہ بوجھ زیادہ ہو، اُن کی طاقت اور برداشت سے باہر ہو، بیرونی مدد کی ضرورت ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 441 خطبه فرمودہ 10 جولا ئی 1936 مطبوعہ ربوہ) اُس وقت معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے، جماعت کو اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے، ذیلی تنظیموں کو اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔پس ہمیں اپنی عملی اصلاح کے لئے ان باتوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے، ان باتوں کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔اپنی قوتِ ارادی کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، قوت عملی کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے والے ہوں اور ہماری جو صلاحیتیں ہیں ، اللہ تعالیٰ نے جو طاقتیں ہمیں دی ہیں وہ زنگ لگ کے ختم نہ ہو جا ئیں۔اس کی