خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 329 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 329

خطبات مسرور جلد 12 329 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مئی 2014ء پھر ایک دعا تھی جس پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ ثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ۔(البقرة: 251) کہ اے ہمارے رب! ہم پر صبر نازل کر اور ہمارے قدموں کو ثبات بخش اور کا فرقوم کے خلاف ہماری مدد کر۔پھر اللهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ کی دعا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم کی طرف سے کوئی خطرہ محسوس فرماتے تھے تو آپ یہ دعا پڑھتے تھے کہ اللهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِ هم - کہ اے اللہ ! ہم تجھے ان کے سینوں میں ڈالتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں۔(سنن ابی داؤد کتاب الصلوة باب ما يقول الرجل اذا خاف قو ما حدیث نمبر (1537) اللَّهُمَّ إِنَّا تَجْعَلُكَ فِي تُحُورِهِمْ - کا ترجمہ اے اللہ ہم تجھے ان کے سینوں میں ڈالتے ہیں پوری طرح واضح نہیں ہوتا سمجھ نہیں آتی اس کا کیا مطلب ہے۔تحر کے لغوی معنی بتاؤں تو شاید مزید واضح ہو جائے۔النخرُ کہتے ہیں سینے کے اوپر کے حصہ کو یا سینہ اور گردن کے جوڑ کو اور خاص طور پر اس جگہ جہاں گڑھا ہے اس جگہ کو جو سانس کی نالی کا اوپر کا حصہ ہے۔یعنی اس کا یہ مطلب بنے گا کہ اے اللہ ! تو ہی ان پر ایسا وار کر جس سے ان کی زندگی کا سلسلہ منقطع ہو جائے اور ہم ان کی شرارتوں سے بچ جائیں۔تو ہی ہے جوان شریروں اور فساد پیدا کرنے والوں اور ظلم کرنے والوں کی طاقت توڑنے والا ہے۔پس ان کا خاتمہ کر اور ہمیں ان کے شر سے اپنی پناہ میں لے لے۔پھر جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ استغفار کا بھی فرماتا ہے کہ بہت زیادہ استغفار کرو۔اسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَاتُوْبُ اِلَيْهِ کی دعا ہے۔پھر اسی طرح کچھ عرصہ ہوا میں نے ایک خواب کی بنا پر کہا تھا کہ رَبّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبَّ فَاحْفَظْنِي وَانْصُرْنِي وَارْحَمْنِي ( تذکرہ صفحہ 363 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ) کی دعا بہت زیادہ پڑھیں۔پھر یہ دعا بھی اس میں شامل کریں جو میں نے گزشتہ خطبہ میں بتائی تھی کہ ربَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتُ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ