خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 327
خطبات مسرور جلد 12 327 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 مئی 2014ء الٹائے جائیں گے۔لیکن ہمیں دعاؤں اور استغفار کی طرف بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔اپنی پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے بھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی فتوحات کو سنبھالنے کے لئے بھی ہمیں دعاؤں کی ضرورت ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ فَسَبِّحْ بِحَمدِ رَبَّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ (النصر : 4) - کہ پس اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر اور اس سے مغفرت مانگ۔پس اس مضمون کو سمجھنے کی ہم سب کو ضرورت ہے۔اپنی دعاؤں کو انتہا تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔میں نے پہلے بھی اس طرف توجہ دلائی تھی کہ قربانیوں کے مضمون کو تو ہم بہت حد تک سمجھتے ہیں لیکن دعاؤں کی حقیقت کو سمجھنے کی ابھی بہت ضرورت ہے۔اگر ہم نے ان قربانیوں کے پھل جلد سے جلد حاصل کرنے ہیں تو دعاؤں کے معیاروں کو بلند کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔اپنے اندر وہ حالت پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو خدا تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ امن يجيب الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ وَ اللَّهُ مَّعَ اللهِ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ (النمل: 63) کہ ( نیز بتاؤ تو) کون کسی بیکس کی دعا سنتا ہے جب وہ اس (خدا) سے دعا کرتا ہے اور (اس کی) تکلیف کو دور کر دیتا ہے اور وہ تم ( دعا کرنے والے انسانوں) کو (ایک دن) ساری زمین کا وارث بنادے گا۔کیا (اس قادر مطلق ) اللہ کے سوا کوئی معبود ہے؟ تم بالکل نصیحت حاصل نہیں کرتے۔( ترجمه از تفسیر صغیر) وو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ یا درکھو کہ خدا تعالیٰ بڑا بے نیاز ہے۔جب تک کثرت سے اور بار بار اضطراب سے دعا نہیں کی جاتی وہ پروا نہیں کرتا۔دیکھو کسی کی بیوی یا بچہ بیمار ہو یا کسی پر سخت مقدمہ آ جاوے تو ان باتوں کے واسطے اس کو کیسا اضطراب ہوتا ہے۔پس دعا میں بھی جب تک کچی تڑپ اور حالت اضطراب پیدا نہ ہو تب تک وہ بالکل بے اثر اور بیہودہ کام ہے۔قبولیت کے واسطے اضطراب شرط ہے جیسا کہ فرمایا آمن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ (النمل: 63) ( ملفوظات جلد 10 صفحہ 137) پس ہمیں اپنی عبادتوں اور دعاؤں میں پہلے سے بڑھ کر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اضطراب پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کے رحم کو ابھارنے کی ضرورت ہے۔اس وقت میں بعض دعاؤں کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں جو جماعت احمدیہ کی جو بلی کے لئے پہلے بھی حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے بتائی