خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 325 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 325

خطبات مسرور جلد 12 325 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مئی 2014ء میں بدلنے کی خوشخبری دی ہے، خلافت سے وابستہ رہنے والوں کو تمکنت عطا فرمانے کا اعلان فرمایا ہے وہاں ان انعامات کا صرف ان لوگوں کو مورد ٹھہرایا ہے جو عبادتوں اور دعاؤں کی طرف توجہ دینے والے ہوں اور اس مقصد کے لئے قربانیاں کرنے والے ہوں کہ خدا کی تو حید دنیا میں قائم کرنی ہے۔پہلے بھی کئی دفعہ بتا چکا ہوں کہ لا إله إلا اللہ کہنے والے تو بہت سے ہوں گے لیکن حقیقی لا إلهَ إِلَّا اللہ کہنے والے وہی ہیں جو ہر حالت میں صرف خدا تعالیٰ کی طرف دیکھتے ہیں۔غیر اللہ کی طرف اُن کی نظر نہیں ہوتی۔پس ہر یوم خلافت جو ہم مناتے ہیں، ہمیں اپنی دعاؤں اور عبادتوں اور توحید پر قائم رہنے اور توحید کو پھیلانے کے معیاروں کو ماپنے کی طرف توجہ دلانے والا ہونا چاہئے۔ورنہ اگر یہ نہیں ، اگر ہمارے معیار اللہ تعالیٰ سے تعلق میں پہلے سے بلند نہیں ہورہے تو جلسے، تقریریں علمی باتیں اور خوشیاں منانا کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔پس اس روح کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔دعاؤں کی طرف ہماری توجہ ہوگی ، توحید کی حقیقت کو سمجھنے کی طرف ہماری نظر ہوگی تو ہم میں سے ہر ایک ان فضلوں کا وارث بنے گا جس کا اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ فرمایا ہے۔گزشتہ خطبہ میں بھی میں نے ذکر کیا تھا کہ ہر پریشانی اور ہر مشکل کے وقت ہمیں خدا تعالیٰ کے آگے جھکنا چاہئے۔دنیا وی طریقہ احتجاج جو ہے اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا خلافت سے وابستہ رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے اور پریشانیوں سے نجات پانے اور امن کی حالت میں آنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے دعاؤں اور عبادتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔پس یہی ہمارے اصل ہتھیار ہیں جن پر ہم مکمل اور مستقل انحصار کر سکتے ہیں۔دعاؤں کے ہتھیار کو چھوڑ کر ہم چھوٹے اور عارضی ہتھیاروں کی طرف دیکھیں گے تو ہمیں کامیابی نہیں مل سکتی، نہ کبھی چھوٹے ہتھیاروں سے کسی کو کامیابی ملی ہے یا ملا کرتی ہے۔انبیاء کی تاریخ میں ہمیں کامیابیاں انہیں دعاؤں کے ذریعہ سے ہی ملتی نظر آتی ہیں اور خاص طور پر جب ہم اسلام کی تاریخ دیکھیں اور خاص طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافت راشدہ کے زمانے کو دیکھیں تو دنیاوی طاقت سے نہیں، اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے ہی فتوحات ملیں۔اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق فتوحات ملیں۔لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ تمام تر وعدوں کے باوجود ان فتوحات کو حاصل کرنے کے لئے جان کی قربانیاں دینی پڑیں ، عبادتوں کے معیار بھی بلند کرنے پڑے۔یہاں ضمناً یہ بھی ذکر کر دوں کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں ایک احمدی کا ذکر کیا تھا جس نے اپنے شیعہ دوست کے حوالے سے بات کی تھی کہ تم لوگ صحیح جواب نہیں دیتے اور یہ بھی شاید میں نے بتایا تھا کہ لگتا