خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 321
خطبات مسرور جلد 12 321 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مئی 2014ء الکرامت ہے۔کمال استقامت یہ ہے کہ چاروں طرف بلاؤں کو محیط دیکھیں اور خدا کی راہ میں جان اور عزت اور آبرو کو معرض خطر میں پاویں اور کوئی تسلی دینے والی بات موجود نہ ہو۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ بھی امتحان کے طور پر تسلی دینے والے کشف یا خواب یا الہام کو بند کر دے اور ہولناک خوفوں میں چھوڑ دے۔اس وقت نامردی نہ دکھلا دیں اور بزدلوں کی طرح پیچھے نہ ہٹیں اور وفاداری کی صفت میں کوئی خلل پیدا نہ کریں۔صدق اور ثبات میں کوئی رخنہ نہ ڈالیں۔ذلت پر خوش ہو جائیں۔موت پر راضی ہو جائیں اور ثابت قدمی کے لئے کسی دوست کا انتظار نہ کریں کہ وہ سہارا دے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 419_420) پس یہ حالت ہے جو ہم میں سے ہر ایک کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہیں ہو سکتی۔جب یہ حالت ہو کہ انسان ہر قربانی کے لئے تیار ہو جائے تو پھر خدا تعالیٰ اپنے بندے کو چھوڑتا نہیں، وہ بڑھ کر تھام لیتا ہے تبھی تو جنتوں کے وعدے بھی دے رہا ہے اور اس لئے اس میں ثبات قدم کی دعا بھی سکھلائی ہے اور دشمنوں پر فتح پانے کی دعا بھی سکھائی ہے۔اس کا مطلب ہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دعاؤں کو قبول کرتے ہوئے اس طرح فتوحات کے دروازے کھولے گا کہ دشمن کے لئے کوئی جائے فرار نہیں ہوگی اور انشاء اللہ تعالیٰ آخری فتح کے جو وعدے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود سے کئے ہیں وہ یقینا پورے ہوں گے اور آخری فتح ہماری ہی ہوگی۔ان قربانیوں کی داستان رقم کرنے والوں میں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت کی خوشخبری پانے والوں میں آج پھر ہمارے ایک بھائی شامل ہوئے ہیں جو بھوئیوال ضلع شیخو پورہ کے مکرم خلیل احمد صاحب ابن مکرم فتح محمد صاحب ہیں، جن کو 16 مئی 2014ء کو شہید کر دیا گیا۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔یہ واقعہ یوں ہے کہ 13 مئی 2014 ء کو مخالفین نے گاؤں میں جماعت کے جو مخالفانہ سٹکر لگائے ہوئے تھے ان کو اتارنے کی وجہ سے احمدیوں سے جھگڑا ہو گیا اور جھگڑا تو نہیں ہوا تو تکار ہی تھی۔اس معاملے کو جواز بنا کر انہوں نے جماعت کے خلاف بھوئیوال ضلع شیخو پورہ میں جلوس نکالا۔لاؤڈ سپیکر پر جماعت کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کیں اور ٹریفک بلاک کر کے پولیس سے مطالبہ کیا کہ مقدمہ درج کریں جس پر پولیس نے چار احمدی احباب کے خلاف مقدمہ درج کر لیا جن میں مبشر احمد صاحب، غلام احمد صاحب ، خلیل احمد صاحب اور احسان احمد صاحب تھے اور ایف آئی آر میں نامزد ملزمان میں سے خلیل احمد صاحب اور ملزمان کے بعض دیگر رشتہ داروں کو گرفتار کر لیا اور حوالات میں بند کر دیا۔مقدمہ کے اندراج کے بعد ایف آئی آر