خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 320 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 320

خطبات مسرور جلد 12 320 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مئی 2014ء جھکو، اس سے مانگو اور جبکہ خالص ہو کر اس سے دعائیں مانگی جا رہی ہوں تو اس کے نتیجہ میں پھر دنیا اور آخرت کے ثواب کا انسان وارث بن جاتا ہے۔پھر سورۃ آل عمران کا دوسرا حصہ ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا، اس میں ایمانوں کی مزید مضبوطی کے لئے یہ تسلی بخش الفاظ بیان فرمائے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ مردے نہیں بلکہ زندہ ہیں۔امواتاً کا مردہ ہونے کے علاوہ یہ بھی مطلب ہے کہ جس کا بدلہ نہ لیا جائے۔دوسرے یہ کہ جس کے پیچھے اس کے مقصد کو پورا کرنے والا کوئی نہ ہو۔تیسرا یہ کہ جو مایوس اور غمزدہ ہو۔لیکن اللہ تعالیٰ کی راہ میں مرنے والے ایسے ہوں گے جو مردے نہیں ہیں جو احیاء کے زمرے میں آتے ہیں اور ان شہیدوں کے خون کا بدلہ خدا تعالیٰ لے گا۔دوسرے یہ کہ ان شہیدوں کی شہادت سے پیچھے رہنے والے کمزور نہیں ہو جائیں گے۔شہادت سے سر شارلوگوں کا گروہ ہر وقت موجود رہے گا۔اور تیسرے یہ کہ یہ شہداء خدا تعالیٰ کے حضور ایسا مقام پانے والے ہیں اور انہیں ایسا رزق دیا جائے گا جس پر وہ خوش ہیں۔ان کی موت افسردہ موت نہیں ہے بلکہ ان کے لئے خوشی کے سامان پیدا کرنے والی موت ہے۔وہ اس بات پر خوش ہیں کہ جب اگلے جہان جا کر ان کو یہ خوشخبری ملے گی کہ ان کی قربانی نہ صرف قربانیاں کرنے والوں کی خواہش رکھنے والوں کی ایک تعداد پیدا کرنے والی بنی ہے بلکہ یہ بھی خوشی ہے کہ یہ قربانیاں دشمنوں پر آخری فتح کا باعث بنے والی ہیں۔پس یہ قربانیاں، یہ امتحان، یہ عارضی ابتلاء ہماری ترقی کی رفتار تیز کرنے والے ہیں نہ کہ مایوسی میں دھکیلنے والے۔اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ اس طرح فرمایا ہے کہ اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلِئِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ (حم السجدة: 31) یعنی يقيناً وه لوگ جنہوں نے کہا اللہ ہمارا رب ہے اور استقامت اختیار کی ان پر بکثرت فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ خوف نہ کرو اور غم نہ کھاؤ اور اس جنت کے ملنے سے خوش ہو جاؤ جس کا تم وعدہ دیئے جاتے ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور باطل خداؤں سے الگ ہو گئے پھر استقامت اختیار کی یعنی طرح طرح کی آزمائشوں اور بلا کے وقت ثابت قدم رہے۔ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ تم مت ڈرو اور مت غمگین ہو اور خوش ہو اور خوشی میں بھر جاؤ کہ تم اس خوشی کے وارث ہو گئے جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔ہم اس دنیوی زندگی میں اور آخرت میں تمہارے دوست ہیں۔اس جگہ ان کلمات سے یہ اشارہ فرمایا کہ اس استقامت سے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔یہ سچ بات ہے کہ استقامت فوق