خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 314
خطبات مسرور جلد 12 314 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مئی 2014ء باتیں ایک حقیقی مومن کبھی برداشت نہیں کر سکتا۔متی نصر اللہ کی آواز اگر مومنین کی طرف سے بلند ہوتی ہے تو یہ خدا تعالیٰ کے آگے جھکتے ہوئے دعا کی آواز ہے۔اور ہر مرتبہ جب ہم ابتلا اور امتحانوں کے دور سے گزرتے ہوئے اللہ کے آگے جھکتے ہوئے اس کے فضلوں اور اس کی مدد مانگتے ہیں، اس کی مدد کے طالب ہوتے ہیں تو ترقی کے نئے سے نئے راستے ہمارے سامنے کھلتے چلے جاتے ہیں۔آج تقریباً تمام دنیا میں پھیلے ہوئے افراد جماعت اور دنیا کے 204 ممالک میں بسنے والے احمدی اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ ابتلاء جماعتی ترقی کے نئے سے نئے راستے کھول رہا ہے اور نئی سے نئی منزلیں طے ہو رہی ہیں۔پس صرف اس بات پر پریشان نہیں ہو جانا چاہئے کہ ایک ملک میں ابتلا یا امتحان کا دور لمبا ہو گیا۔بلکہ یہ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وسعتیں کہاں تک پھیل رہی ہیں۔جہاں تک یہ سوال ہے کہ دنیاوی اسباب کا استعمال بھی ہونا چاہئے تو بالکل ٹھیک ہے۔یہ ہونا چاہئے۔رعایت اسباب منع نہیں ہے بلکہ اس کا بھی حکم ہے۔ظاہری طریقوں کو اپنانا بالکل منع نہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جن حدود میں رہتے ہوئے ہم نے یہ ظاہری اسباب استعمال کرنے ہیں اور ہمیں یہ استعمال کرنے چاہئیں ہم کرتے بھی ہیں۔دنیا کو آگاہ بھی کرتے ہیں کہ کس طرح جماعت پر مظالم ہور ہے ہیں۔اور ہم ان کو یہ بتاتے ہیں کہ اگر آج دنیا نے مل کر ان ظلموں کو ختم کرنے کی کوشش نہ کی تو یہ مظالم پھیلتے چلے جائیں گے۔جماعت کا سوال نہیں ہے بلکہ کوئی بھی انسان محفوظ نہیں رہے گا اور اب یہ پھیل رہے ہیں۔دنیا دیکھ رہی ہے۔لیکن یہ سب کچھ بتانے کے باوجود ہمارا انحصار نہ کسی حکومت پر ہے نہ کسی انسانی حقوق کی تنظیم پر بلکہ ہمارا انحصار خدا تعالیٰ کی ذات پر ہے۔اور یہی مضمون میں خاص طور پر گزشتہ دو تین جمعوں میں خطبوں میں بتا رہا ہوں کہ تمام نتائج کے حصول کے لئے ہماری نظر خدا تعالیٰ پر ہونی چاہئے۔اور یہی ایک مومن کی مثال ہے۔دنیا وی لوگ اگر شور مچاتے ہیں۔جلسے جلوس کرتے ہیں۔توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔اپنے خلاف ظلموں کا اسی طرح ظلم کر کے بدلہ لیتے ہیں تو اس لئے کہ ان سے الہی وعدے نہیں ہیں کہ آخری فتح تمہاری ہے۔جبکہ ہمارے ساتھ خدا تعالیٰ کے وعدے ہیں کہ ان سب فلموں کے باوجود جو تم سے روار کھے جار ہے ہیں، جو تم پر ہورہے ہیں۔ان سب زیادتیوں کے باوجود جو حکومتوں کی طرف سے یا حکومتوں کے اشیر باد پر حکومت کے قریبیوں اور کارندوں اور اہلکاروں کی طرف سے ہو رہے ہیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے یہ فیصلہ کر چھوڑا ہے کہ تمہیں وہ انعامات ملتے ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ ملنے والے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت سے مومنوں کو ملتے ہیں۔اس دنیا کے انعامات کے بھی تم وارث ہو گے اور اگلے جہان کے انعامات کے بھی تم