خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 26
خطبات مسرور جلد 12 26 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جنوری 2014ء کامیابی حاصل ہو ہی نہیں سکتی۔یہاں میں اس بات کا بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ یہاں جو اسائلم لینے والے آتے ہیں، وہ پتا نہیں کیوں، اکثریت کے ذہنوں میں یہ بات راسخ ہو گئی ہے کہ لمبی کہانی بنائے بغیر اور جھوٹی کہانی بنائے بغیر ہمارے کیس پاس نہیں ہوں گے۔حالانکہ کئی مرتبہ میں کہہ چکا ہوں کہ اگر مختصر اور صحیح بات کی جائے تو کیس جلدی پاس ہو جاتے ہیں۔ایسی کئی مثالیں میرے سامنے ہیں۔کئی لوگوں نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے سچی اور مختصر سی بات کی ہے اور چند دنوں میں کیس پاس ہو گیا۔اس کے لئے تو یہی کافی ہے کہ دماغی ٹارچر اب اُن سے برداشت نہیں ہوتا۔جہاں ہر وقت اپنا بھی دھڑ کا ہے اور اپنے بچوں کا بھی دھڑ کا ہے۔بہت ساری پریشانیاں ہیں۔سکول نہیں جا سکتے ، سکولوں میں تنگ کئے جاتے ہیں تو اس طرح کی بہت ساری چیزیں ہیں۔اسی بات پر اکثریت جو کیس ہیں وہ پاس ہو جاتے ہیں۔پس سچائی پر قائم رہنا چاہئے اور پھر خدا تعالیٰ پر تو گل بھی کرنا چاہئے۔یہ جھوٹی کہانیاں جب بچوں کے سامنے ذکر ہوں کہ ہم نے حج کو یہ کہانی سنائی اور وہ سنائی تو پھر بچے بھی یہی سمجھتے ہیں کہ جھوٹ بولنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔اگر جھوٹ نہ بولتے تو شاید ہمارا کیس پاس نہ ہوتا یا ہمیں فائدہ نہ پہنچ سکتا۔یہ تصور پیدا ہو جاتا ہے کہ جھوٹ ہی ہے جو تمام ترقیات کی چابی ہے۔یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ آجکل بھلا کون ہے جو سچ بولتا ہے۔تو یہ سب باتیں بچوں کے ذہنوں میں اپنے بڑوں کی باتیں سن کر پیدا ہوتی ہیں۔اور پھر اُن کا علم یہیں محدود ہو جاتا ہے کہ جھوٹ بولنا ایسی بُری بات نہیں ہے۔اور نتیجہ کیا ہو گا پھر ؟ نتیجہ ظاہر ہے کہ بڑے ہوکر جہاں جہاں بھی ایسے بچے کو جھوٹ بولنے کا موقع ملے گا وہ اپنی قوت موازنہ سے فیصلہ چاہے گا تو قوتِ موازنہ اُسے فوراً یہ فیصلہ دے دے گی کہ خطرہ زیادہ ہے، جھوٹ بول لو، اس میں کوئی حرج نہیں۔اسی طرح غیبت ہے۔اگر بچہ اپنے ارد گرد غیبت کرتے دیکھتا ہے کہ تمام لوگ ہی غیبت کر رہے ہیں تو بڑا ہو کر اُس کے سامنے جب غیبت کا موقع آتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے غیبت کی تو مجھے فائدہ پہنچے گا تو قوت مواز نہ اُسے کہتی ہے، تمہارے ارد گرد تمام غیبت کرتے ہیں اگر تم غیبت کر لو تو کیا حرج ہے۔گو یا گناہ تو ہے لیکن اتنا بڑا گناہ نہیں۔اس بارے میں گزشتہ ایک خطبہ میں بات ہو چکی ہے کہ اصلاح اعمال میں ایک بہت بڑی روک یہ ہے کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ بعض گناہ بڑے ہیں اور بعض چھوٹے گناہ ہیں اور ان کو کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔اور پھر ان گناہوں کو جب ایک دفعہ انسان کر لے تو چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔یہاں انسان میں قوت موازنہ تو موجود ہوتی ہے مگر اس غلط علم کی وجہ سے جو اُ سے ماحول نے دیا ہے ، وہ انسان کو اتنی طاقت نہیں دیتی جس