خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 307
خطبات مسرور جلد 12 307 درمیان سے اٹھا دے اور اپنے وجود کو اس کی عظمت میں محو کر دے۔“ خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مئی 2014ء ( ملفوظات جلد 1 صفحه (241) صحابہ کا اخلاص بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام کے حالات کو دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ انہوں نے نہ گرمی دیکھی نہ سردی اپنی زندگی کو تباہ کر دیا۔نہ عزت کی پروا کی نہ جان کی۔بکری کی طرح ذبح ہوتے رہے۔اس طرح کی نظیر پیش کرنی آسان نہیں ہے۔اس جماعت کے اخلاص کا اس سے زیادہ کیا ثبوت ہے کہ جان دے کر اخلاص ثابت کیا۔ان کے نفس بالکل دنیا سے خالی ہو گئے تھے جیسے کوئی ڈیوڑھی پر کھڑا سفر کے لئے تیار ہوتا ہے ویسے ہی وہ لوگ دنیا کو چھوڑ کر آخرت کے واسطے تیار تھے۔لوگوں کے کاموں میں بہت حصہ دنیا کا ہوتا ہے اور اس فکر میں ہوتے ہیں کہ یہ کرو وہ کرو اور وہ وقت مؤجل آ پہنچتا ہے۔خدا ایسا نہیں کہ کسی کو ضائع کرے۔یہ اعتراض کہ ہمارے املاک تباہ ہو جاویں گے غلط ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ابوبکر وغیرہ کے املاک ہی کیا تھے؟ ایک ایک دو دوسو یا کچھ زیادہ روپیہ کسی کے پاس ہوگا مگر اس کا اجر اُن کو یہ ملا کہ خدا تعالیٰ نے بادشاہ کر دیا اور قیصر و کسری کے وارث ہو گئے۔مگر خدا تعالیٰ کی غیرت یہ نہیں چاہتی کہ کچھ حصہ خدا کا ہو اور کچھ شیطان کا اور توحید کی حقیقت بھی یہی ہے کہ غیر از خدا کا کچھ بھی حصہ نہ ہو۔توحید کا اختیار کرنا تو ایک مرنا ہے لیکن اصل میں یہ مرنا ہی زندہ ہونا ہے۔“ پھر آپ فرماتے ہیں کہ ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 6 تا 8 ) یقینا سمجھو۔اس دنیا کے بعد ایک اور جہان ہے جو بھی ختم نہ ہو گا۔اس کے لئے تمہیں اپنے آپ کو تیار کرنا چاہئے۔یہ دنیا اور اس کی شوکتیں یہاں ہی ختم ہو جاتی ہیں مگر اس کی نعمتوں اور خوشیوں کا کوئی بھی انتہا نہیں ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ جو شخص ان سب باتوں سے الگ ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف آتا ہے وہی مومن ہے اور جب ایک شخص خدا کا ہو جاتا ہے تو پھر یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ اسے چھوڑ دے۔یہ مت سمجھو کہ خدا ظالم ہے۔جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے کچھ کھوتا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ پالیتا ہے۔اگر تم خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم کر لو اور اولاد کی خواہش نہ کرو تو یقیناً اور ضروری سمجھو کہ اولا د مل جاوے گی۔اور اگر مال کی خواہش نہ ہو تو وہ ضرور دے دے گا۔تم دو کوششیں مت کرو کیونکہ ایک وقت دو کوششیں نہیں ہوسکتی ہیں اور