خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 25 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 25

خطبات مسرور جلد 12 25 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جنوری 2014ء اور عملی کمزوری کو دور کرنے کے لئے لگانے کی ضرورت ہے۔اور اس کے لئے اپنے علم کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے تا کہ اُس کے مطابق صحیح طاقت کا استعمال کر کے اپنی کمزوریوں پر غالب آیا جاسکے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک بات یہ بھی بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک انسان میں ایک قوت مواز نہ رکھی ہے جس سے وہ دو چیزوں کے درمیان موازنہ کر سکتا ہے۔جو یہ فیصلہ کرتی ہے کہ فلاں کام کرنے کے لئے اتنی طاقت درکار ہے۔اور کیونکہ ساری طاقت انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتی بلکہ دماغ میں محفوظ ہوتی ہے۔اس لئے پہلی دفعہ جب ایک کام نہ ہو ، جیسے وزن اُٹھانے کی مثال دی گئی ہے، وزن نہ اُٹھایا جا سکے تو پھر انسان دماغ کو مزید طاقت بھیجنے کے لئے کہتا ہے اور اس طاقت کے آنے پر چیز اُٹھانے میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔اور یہ قوت مواز نہ بھی علم کے ذریعہ آتی ہے۔خواہ اندرونی علم ہو یا بیرونی علم ہو۔اندرونی علم سے مراد مشاہدہ اور تجربہ ہے اور بیرونی علم سے مراد باہر کی آوازیں ہیں جو کان میں پڑتی ہیں۔جیسے باہر کے کسی حملے کی مثال دی گئی تھی۔باہر کے حملے سے ہوشیار کرنے کے لئے باہر کی آوازیں انسان کو ہو شیار کرتی ہیں۔لیکن یہ جو وزن اُٹھانے کی مثال دی گئی تھی ، اس کے لئے قوت موازنہ نے خود فیصلہ کرنا ہے کہ پہلے یہ وزن نہیں اُٹھایا گیا تو اس لئے کہ تم اسے کم وزن سمجھتے تھے، اگر مثلاً دس کلو تھا تو پانچ کلو سمجھتے تھے اور تھوڑی طاقت لگائی تھی۔اب اسے اُٹھانے کے لئے دس کلو کی طاقت لگا و تو اُٹھا لو گے۔اس اصول کو اگر سامنے رکھا جائے تو جب انسان اس لائحہ عمل کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو قوت مواز نہ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ مجھے اپنی جد و جہد کے لئے کس قدر طاقت کی ضرورت ہے۔بعض دفعہ صحیح علم نہ ہونے کی وجہ سے انسان اعمال کی اصلاح نہیں کر سکتا۔اور قوت موازنہ عدمِ علم کی وجہ سے اُسے صحیح خبر نہیں دیتی کہ اس کی عملی اصلاح کے لئے کس قدر طاقت کی ضرورت ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 437 438 خطبه فرمودہ 10 جولائی 1936 مطبوعہ ربوہ) پس قوت موازنہ انسان کو ہوشیار کرتی ہے اور یہی ہے جو عدم علم کی وجہ سے اُسے غافل بھی کرتی ہے۔قوت موازنہ بھی تبھی ہوگی جب کسی چیز کا علم ہو جائے۔اگر علم ہو گا تو ہوشیار کرے گی کہ اس کو اس طرح استعمال کرو علم نہیں ہوگا تو انسان وہ کام نہیں کر سکتا۔اور پھر اس عدم علم کی وجہ سے یا صحیح علم نہ ہونے کی وجہ سے انسان سے گناہ سرزد ہوتے ہیں۔چنانچہ ایک بچہ جب ایسے لوگوں میں پرورش پاتا ہے جو گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں یا مستقل ہی مرتکب رہتے ہیں، ہر وقت اُن کی مجلسوں میں یہ ذکر رہتا ہے کہ جھوٹ کے بغیر تو دنیا میں گزارہ نہیں ہو سکتا تو بچے کے ذہن میں یہ خیال آ جاتا ہے کہ اس زمانے میں جھوٹ کے بغیر