خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 302
خطبات مسرور جلد 12 302 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مئی 2014ء ہی لیٹ گیا۔اس کے لئے پانی نے ہی زہر کا کام کیا۔پانی پیتے ہی ایسی تکلیف ہوئی کہ اٹھنے کے قابل نہیں رہا اور وہی پانی جو زندگی بخش چیز ہے وہاں اس کے لئے زہر بن گیا۔بعض لوگ روزے کے بعد بے انتہا پانی پی جاتے ہیں ہیں ، ان کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے۔اس بارے میں احتیاط کرنی چاہئے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 5 صفحہ 316) پھر فرمایا کہ ”جو کام ہے خواہ معاشرہ کا خواہ کوئی اور جب تک اس میں آسمان سے برکت نہ پڑے تب تک مبارک نہیں ہوتا غرض کہ اللہ تعالیٰ کے تصرفات پر کامل یقین چاہیئے۔جس کا یہ ایمان نہیں ہے اس میں دہریت کی ایک رگ ہے۔پہلے ایک امر آسمان پر ہورہتا ہے۔تب زمین پر ہوتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 316) فرمایا کہ لاف و گزاف کا نام تو حید نہیں۔مولویوں کی طرف دیکھو کہ دوسروں کو وعظ کرتے اور آپ کچھ عمل نہیں کرتے۔اسی لئے اب اُن کا کسی قسم کا اعتبار نہیں رہا ہے۔ایک مولوی کا ذکر ہے کہ وہ وعظ کر رہا تھا۔سامعین میں اس کی بیوی بھی موجود تھی۔صدقہ و خیرات اور مغفرت کا وعظ اس نے کیا۔اس سے متاثر ہوکر ایک عورت نے پاؤں سے ایک پازیب اُتار کر واعظ صاحب کو دیدی جس پر واعظ صاحب نے کہا تو چاہتی ہے کہ تیرا دوسرا پاؤں دوزخ میں جلے؟ یہ سن کر اس نے دوسری بھی دیدی۔جب گھر میں آئے تو بیوی نے بھی اس وعظ پر عملدرآمد چاہا کہ محتاجوں کو کچھ دے۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ یہ باتیں سنا نے کی ہوتی ہیں کرنے کی نہیں ہوتیں اور کہا کہ اگر ایسا کام ہم نہ کریں تو گزارہ نہیں ہوتا۔“ ( آجکل کے مولویوں کا یہی حال ہے۔انہیں کے متعلق یہ ضرب المثل ہے۔واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر می کنند چون بخلوت مے روند آن کار دیگر می کنند ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 316) یعنی وعظ کرنے والے جو کچھ محراب و منبر پر بتاتے ہیں جب تنہائی میں جاتے ہیں تو اس کام کے برخلاف کرتے ہیں۔پھر ایک حقیقی مومن جو تو حید پر قائم ہو کیسا ہوتا ہے یا کیسا ہونا چاہئے۔اس کی حالت بیان فرماتے ہوئے ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ مومن ایک لا پروا انسان ہوتا ہے۔اسے صرف خدا تعالیٰ کی رضامندی کی حاجت ہوتی ہے اور اسی کی اطاعت کو وہ ہر دم مد نظر رکھتا ہے کیونکہ جب اس کا معاملہ خدا سے ہے تو پھر اسے کسی کے ضرر اور نفع کا