خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 298 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 298

خطبات مسرور جلد 12 298 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مئی 2014ء ہوتے ہیں اور بعض اوسط درجہ کے گناہوں میں اور بعض بار یک در بار یک قسم کے گناہوں کا شکار ہوتے ہیں۔جیسے بخل ، ریا کاری یا اور اسی قسم کے گناہ کے حصوں میں گرفتار ہوتے ہیں۔جب تک ان سے رہائی نہ ملے انسان اپنے گمشدہ انوار کو حاصل نہیں کر سکتا۔اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام دیئے ہیں۔بعض اُن میں سے ایسے ہیں کہ ان کی بجا آوری ہر ایک کو میتر نہیں ہے۔مثلاً حج۔یہ اس آدمی پر فرض ہے جسے استطاعت ہو۔پھر راستہ میں امن ہو۔پیچھے جو متعلقین ہیں ان کے گزارہ کا بھی معقول انتظام ہو یہ نہیں کہ گھر والوں کو بھوکا چھوڑ جاؤ کہ ہم حج پر جا رہے ہیں اور اسی قسم کی ضروری شرائط پوری ہوں تو حج کر سکتا ہے۔ایسا ہی زکوۃ ہے۔یہ وہی دے سکتا ہے جو صاحب نصاب ہو۔ایسا ہی نماز میں بھی تغییرات ہو جاتے ہیں۔“ (سفر میں قصر ہو جاتی ہے یا بعض دوسرے حالات میں جمع ہو جاتی ہے۔لیکن ایک بات ہے جس میں کوئی تغیر نہیں۔( کوئی تبدیلی نہیں پیدا ہو سکتی '' وہ ہے : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ۔اصل بات یہی ہے اور باقی جو کچھ ہے وہ سب اس کے مکملات ہیں۔توحید کی تکمیل نہیں ہوتی جب تک عبادات کی بجا آوری نہ ہو۔“ ( جس طرح اللہ تعالیٰ نے عبادت کرنے کا حکم دیا ہے اس طرح عبادت کرو گے تبھی تو حید کی تکمیل ہوگی۔) فرمایا کہ اس کے یہی معنے ہیں کہ لَا اِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کہنے والا اس وقت اپنے اقرار میں سچا ہوتا ہے کہ حقیقی طور پر عملی پہلو سے بھی وہ ثابت کر دکھائے کہ حقیقت میں اللہ کے سوا کوئی دوسرا محبوب و مطلوب اور مقصود نہیں ہے۔جب اس کی یہ حالت ہو اور واقعی طور پر اس کا ایمانی اور عملی رنگ اس اقرار کو ظاہر کرنے والا ہو تو وہ خدا تعالیٰ کے حضور اس اقرار میں جھوٹا نہیں۔ساری مادی چیزیں جل گئی ہیں اور ایک فنا اُن پر اس کے ایمان میں آگئی ہے۔تب وہ لا الهَ إِلَّا اللهُ منہ سے نکالتا ہے اور مُحمد رسُولُ اللہ جو اس کا دوسرا جزو ہے وہ نمونہ کے لیے ہے۔کیونکہ نمونہ اور نظیر سے ہر بات سہل ہو جاتی ہے۔“ ( مثالیں قائم ہوں تو سب باتیں آسان ہو جاتی ہیں اور مثال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے ہر حکم پر عمل کر کے ، اپنا اسوہ حسنہ قائم کر کے ہمیں دے دی۔) فرمایا کہ انبیاء علیہم السلام نمونوں کے لئے آتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جمیع کمالات کے نمونوں کے جامع تھے۔“ ( تمام کمالات جتنے بھی ہیں آپ میں جمع ہو گئے اور ان کے نمونوں کی مثالیں بھی آپ نے قائم کر دیں۔) ” کیونکہ سارے نبیوں کے نمونے آپ میں جمع ہیں۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 81 تا 83)