خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 281 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 281

خطبات مسرور جلد 12 281 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 مئی 2014ء آنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنے سے پہلے اس تڑپ پر غور کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے جو مسلمان کہلاتے ہیں اس اسوہ حسنہ پر چلنے کی کوشش کرنے والے بنیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى أَثَارِهِمْ إِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا ( الكهف : 7) پس کیا تو شدت غم کے باعث ان کے پیچھے اپنی جان کو ہلاک کر دے گا اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائیں۔یہ جن کا ذکر کیا گیا ہے وہ کس بات پر ایمان نہیں لاتے ؟ اس بات پر کہ شرک نہ کرو، خدا کا بیٹا نہ بناؤ۔جب ان کو کہا جاتا ہے تو اس پر ایمان نہیں لاتے۔شرک ایک ایسا گناہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اسے معاف نہیں کرتا۔پس یہ ہمدردی اور محبت ہے ہر انسان سے حتی کہ مشرک کے ساتھ بھی کہ اسے سیدھے راستے پر لانے کے لئے جہاں عملی کوشش کی جائے وہاں اس کے لئے دعا بھی کی جائے۔پس اگر احمدیوں کو محبت سب سے“ کا صحیح ادراک حاصل کرنا ہے تو ہمیں اپنے آقا اور محسن انسانیت سے اس کے طریق سیکھنے ہیں اور یہ ہم تبھی کر سکتے ہیں جب خود اپنی توحید کے معیاروں کو بھی ما ہیں۔پھر ہم دیکھتے ہیں محبت اور ہمدردی کے جذبات کی ایک اور مثال کہ جب قوم کی طرف سے ظلم وتعدی کی انتہا ہوتی ہے تو تباہی کی دعائیں نہیں کیں بلکہ یہ دعا کی کہ اے اللہ میری قوم کو ہدایت دے۔یہ نہیں جانتے کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں ان کے فائدے کے لئے ہے۔جب دوسرے قبیلے تنگ کرتے ہیں اور بددعا کے لئے کہا جاتا ہے تو تب بھی ایک موقع پر آپ نے یہی ہاتھ اٹھائے۔لوگ سمجھے کہ بددعا ہوئی اور قبیلہ تباہ ہوا۔آپ نے کہا کہ اے اللہ دوس قبیلے کو ہدایت دے۔(صحيح البخارى كتاب الجهاد و السير باب الدعاء للمشركين بالهدى ليتألفهم حديث 2937) پس محبت صرف اپنوں کے لئے اور ہمدردی صرف اپنوں سے ہی نہیں بلکہ دوسروں سے بھی محبت اور ہمدردی کے وہی معیار ہیں۔صرف اور صرف ایک درد ہے کہ توحید کا قیام ہو جائے تا کہ دنیا تباہی سے بیچ جائے۔آج بھی دنیا میں ہزاروں قسم کا شرک پھیل چکا ہے اور نہ صرف شرک بلکہ خدا کے وجود سے ہی دنیا کا ایک بڑا حصہ انکاری ہے۔پس خدا تعالیٰ کی حکومت قائم کرنے کے لئے اور توحید کے قیام کے لئے ہمیں بھی اس چیز کو اپنانے کی ضرورت ہے جس کا سبق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نمونے سے ہمیں دیا ہے۔