خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 20
خطبات مسرور جلد 12 20 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جنوری 2014ء حالت درست نہیں ہے تو ایمان بھی نہیں ہے۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 375 376) پس اگر ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن میں کارآمد ہونا ہے۔آپ کے مقصد کو پورا کرنے والا بننا ہے تو یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ہم میں سے ہر ایک اپنی عملی اصلاح کی روکوں کو دور کرنے کی بھر پور کوشش کرے۔کیونکہ یہ عملی اصلاح ہی دوسروں کی توجہ ہماری طرف پھیرے گی اور نتیجہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن کی تکمیل میں ممد و معاون بن سکیں گے۔پس ہمیں سوچنا چاہئے کہ اس کے حصول کے لئے ہم نے کیا کرنا ہے؟ کیونکہ ہمارے غالب آنے کا ایک بہت بڑا ہتھیار عملی اصلاح بھی ہے۔ہماری اپنی اصلاح سے ہی ہمارے اندر وہ قوت پیدا ہو گی جس سے دوسروں کی اصلاح ہم کر سکیں گے۔ہمارے غالب آنے کا مقصد کسی کو ماتحت کرنا اور دنیاوی مقاصد حاصل کرنا تو نہیں ہے۔بلکہ دنیا کے دل اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا کر ڈالنا ہے۔لیکن اگر ہمارے اور دوسروں میں کوئی فرق نہیں ہے تو دنیا کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ ہماری باتیں سنے۔پس ہمیں اپنی عملی قوتوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اور پھر مضبوطی کے ساتھ اس پر قائم رہنے کی ضرورت ہے۔خود دوسروں سے مرعوب ہونے کی بجائے دنیا کو مرعوب کرنے کی ضرورت ہے آجکل جبکہ دنیا میں لوگ دنیا داری اور مادیت سے مرعوب ہورہے ہیں ہمیں پہلے سے بڑھ کر اپنی حالتوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔اور یہ نظریں رکھتے ہوئے اپنے آپ کو دنیا کے رعب سے نکالنے کی ضرورت ہے۔اور دنیا کو بھی ان شیطانی حالتوں سے نکالنے کی ضرورت ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے والے ہم بن سکیں اور دنیا کی اکثر آبادی بن سکے۔لیکن اس کے راستے میں بہت سی روکیں ہیں۔اس کے لئے ہم نے اپنے اندر ایسی طاقت پیدا کرنی ہے کہ ان روکوں کو دور کر سکیں۔ہمیں دنیا کے مقابلے کے لئے بعض قواعد تجویز کرنے ہوں گے جو ہم میں سے ہر ایک اپنے اوپر لاگو کرے اور پھر اُس کی پابندی کرے۔اس کے لئے ہمیں اپنے نفسوں کی قربانی دینی ہوگی اور ایک ماحول پیدا کرنا ہوگا۔جب تک ہمیں یہ حاصل نہیں ہوتا، ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔جیسا کہ میں گزشتہ ایک خطبہ میں بتا چکا ہوں۔آجکل دنیا سمٹ کر قریب تر ہوگئی ہے۔گویا ایک شہر بن گئی ہے بلکہ یہ کہنا چاہئے ایک محلہ بن گئی ہے۔ہزاروں میل دور کی برائی بھی ہر گھر میں الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ پہنچ گئی ہے اور ہر ملک کی جو خواہ ہزاروں میل دور ہے، اچھائی بھی ہر گھر تک پہنچ گئی۔ہے۔