خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 245 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 245

خطبات مسرور جلد 12 245 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اپریل 2014ء فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔( بڑے غور و فکر کر نیوالے ہیں، بڑے کائنات پر بھی غور کرتے ہیں، زمین پر بھی غور کرتے ہیں، سائنس پر بھی غور کرنے والے ہیں لیکن ان میں سے بہت سارے لوگ دہر یہ بھی ہیں جیسا وو کہ اس زمانے میں نظر آتا ہے کیونکہ صرف عقل کے استعمال کرنے سے ان کو کچھ فائدہ نہیں پہنچتا۔)۔۔۔۔اور خدا تعالیٰ کے کاملوں پر ٹھٹھا اور جنسی کرتے ہیں۔نتیجہ کیا ہوتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کا نام لیتے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں ، جن کا اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق ہے ان سے مذاق اور ٹھٹھہ کر رہے ہوتے ہیں فرمایا اور اُن کی یہ حجت ہے کہ دنیا میں ہزار ہا ایسی چیزیں پائی جاتی ہیں جن کے وجود کا ہم کوئی فائدہ نہیں دیکھتے اور جن میں ہماری عقلی تحقیق سے کوئی ایسی صنعت ثابت نہیں ہوتی جو صانع پر دلالت کرے بلکہ محض لغو اور باطل طور پر اُن چیزوں کا وجود پایا جاتا ہے۔" عقل کیونکہ اس تک پہنچ نہیں سکی ، اس لئے ضرورت ہی نہیں کہ کوئی اس کا بنانے والا بھی ہوگا۔فرماتے ہیں کہ افسوس وہ نادان نہیں جانتے کہ عدم علم سے عدم شی لازم نہیں آتا۔6 ( یعنی کسی چیز کا علم نہ ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ چیز موجود نہیں ہے۔۔۔اس قسم کے لوگ کئی لاکھ اس زمانہ میں پائے جاتے ہیں جو اپنے تئیں اول درجہ کے عقلمند اور فلسفی سمجھتے ہیں۔اب تو یہ کروڑوں میں ہو گئے ہیں۔بلکہ دنیا میں بہت سارے لوگ ہیں کہ انہی باتوں کی وجہ سے انہوں نے خدا تعالیٰ پر یقین کرنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ روحانیت کا جو خانہ تھاوہ بالکل خالی ہوتا چلا جار ہا ہے۔) فرمایا۔اور خدا تعالیٰ کے وجود سے سخت منکر ہیں۔اب ظاہر ہے کہ اگر کوئی عقلی دلیل زبر دست اُن کو ملتی تو وہ خدا تعالیٰ کے وجود کا انکار نہ کرتے۔اور اگر وجود باری جل شانہ پر کوئی برہان یقینی عقلی 66 انکو ملزم کرتی تو وہ سخت بے حیائی اور ٹھٹھے اور جنسی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے وجود سے منکر نہ ہو جاتے۔( یعنی اگر ایسا کوئی یقینی اور عقلی ثبوت مل جاتا جو ان کا منہ بند کرانے کے لئے کافی ہوتا تو پھر وہ خدا تعالیٰ کی ذات پر ٹھٹھہ اور ہنسی نہ کرتے ، اس کا انکار نہ کرتے جس طرح آجکل دنیا کی اکثریت کر رہی ہے۔فرمایا ) د۔پس کوئی شخص فلسفیوں کی کشتی پر بیٹھ کر طوفان شبہات سے نجات نہیں پاسکتا۔( پھر فلسفیوں کی بھی با تیں سننی ہیں یا ظاہری طور پر سائنس کو دیکھنا ہے یا روحانیت سے دور ہٹ کے دیکھنا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی ہستی کے بارے میں جو شبہات دل میں پیدا ہوتے ہیں ان سے تم نجات نہیں پاسکتے وہ تمہارے دل سے کبھی نہیں دور ہو سکتے۔۔۔۔بلکہ ضرور غرق ہوگا۔مزید دہریت میں ڈوبتا چلا جائے گا۔اور ہرگز ہرگز شربت توحید خالص اس کو میسر نہیں آئے گا۔اب سوچو کہ یہ خیال کس قدر باطل اور بد بودار ہے کہ