خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 240
خطبات مسرور جلد 12 240 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اپریل 2014ء میں ان کے لئے سامان راحت میسر کرتا ہے۔جیسا کہ آفتاب اور زمین اور دوسری تمام چیزوں کو ہمارے وجود اور ہمارے اعمال کے وجود سے پہلے ہمارے لئے بنا دیا۔اس عطیہ کا نام خدا کی کتاب میں رحمانیت ہے۔اور اس کام کے لحاظ سے خدائے تعالیٰ رحمن کہلاتا ہے۔( یعنی تمام ضروریات کو پہلے سے مہیا کر دیا یہ اس کی روحانیت ہے۔) دو اور پھر فرمایا کہ الرّحیم یعنی وہ خدا نیک عملوں کی نیک تر جزا دیتا ہے اور کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا اور اس کام کے لحاظ سے رحیم کہلاتا ہے۔اور یہ صفت رحیمیت کے نام سے موسوم ہے۔اور پھر فرما يا ملِكِ يَوْمِ الدّین یعنی وہ خدا ہر ایک کی جزا اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔اس کا کوئی ایسا کار پرداز نہیں جس کو اس نے زمین و آسمان کی حکومت سونپ دی ہو۔کسی سے کوئی کام کروانے کے لئے اس کو ضرورت نہیں۔ہر چیز اس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔اور آپ الگ ہو بیٹھا ہو اور آپ کچھ نہ کرتا ہو۔وہی کار پرداز سب کچھ جزا سزا دیتا ہو یا آئندہ دینے والا ہو۔اور پھر فرمایا الْمَلِكُ القُدُّوسُ یعنی وہ خدا بادشاہ ہے جس پر کوئی داغ عیب نہیں۔یہ ظاہر ہے کہ انسانی بادشاہت عیب سے خالی نہیں۔(انسانی بادشاہت عیب سے خالی نہیں ہے۔کوئی نہ کوئی خامیاں کمزوریاں اس میں ہیں۔اگر مثلاً تمام رعیت جلا وطن ہو کر دوسرے ملک کی طرف بھاگ جاوے تو پھر بادشاہی قائم نہیں رہ سکتی یا اگر مثلاً تمام رعیت قحط زدہ ہو جائے رعایا قحط زدہ ہو جائے تو پھر خراج شاہی کہاں سے آئے۔۔۔( جو اس سے ٹیکس وصول کیا جا سکتا ہے وہ کہاں سے آئے گا اور اگر رعیت کے لوگ اس سے بحث شروع کر دیں کہ تجھ میں ہم سے زیادہ کیا ہے تو وہ کونسی لیاقت اپنی ثابت کرے۔بادشاہ کے مقابلے پر اگر رعایا کھڑی ہو جائے تو کیا ثابت کرے۔آجکل دنیا میں ملکوں میں آپ دیکھ لیں۔یہی کچھ فتنہ وفساد ہورہا ہے۔حکومتوں اور رعایا کی جنگیں ہو رہی ہیں۔پس فرمایا کہ پس خدا تعالیٰ کی بادشاہی ایسی نہیں ہے۔وہ ایک دم میں تمام ملک کو فنا کر کے اور مخلوقات پیدا کر سکتا ہے۔اگر وہ ایسا خالق اور قادر نہ ہوتا تو پھر بجر ظلم کے اس کی بادشاہت چل نہ سکتی۔کیونکہ وہ دنیا کو ایک مرتبہ معافی اور نجات دے کر پھر دوسری دنیا کہاں سے لاتا۔کیا نجات یافتہ لوگوں کو دنیا میں بھیجنے کے لئے پھر پکڑتا اور ظلم کی راہ سے اپنی معافی اور نجات دہی کو واپس لیتا ؟ تو اس صورت میں اس کی خدائی میں فرق آتا ( یہ جولوگوں کا نظریہ ہے ناں کہ معافی کی اور پھر بھیجا۔پھر فرمایا اور دنیا کے بادشاہوں کی طرح داغدار بادشاہ ہوتا جو دنیا کے لئے قانون بناتے ہیں۔بات باتمیں بگڑتے ہیں اور اپنی خود غرضی کے وقتوں پر جب دیکھتے ہیں کہ ظلم کے بغیر چارہ نہیں تو ظلم کو