خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 225 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 225

خطبات مسرور جلد 12 225 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اپریل 2014ء جانتے ہیں کہ یہ حضرت صاحب کی طاقت سے بالا ہے۔ان کے اس جواب سے یہ مطلب تھا کہ یہ خدا کا کلام ہے۔حضرت صاحب کا نہیں“۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر 10 صفحہ 302 تا 304 روایت حضرت مولانا شیر علی صاحب) حضرت میاں امیر الدین صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحب جو خطبہ الہامیہ سنا کر نکلے تو راستے میں فرمایا کہ جب میں ایک فقرہ کہہ رہا ہوتا تھا تو مجھے پتا نہیں ہوتا تھا کہ دوسرا فقرہ کیا ہوگا۔لکھا ہوا سامنے آ جاتا تھا اور میں پڑھ دیتا تھا۔حضور بہت ٹھہر ٹھہر کر اور آہستہ آہستہ پڑھ رہے تھے۔“ (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر 10 صفحہ 62 روایت حضرت میاں امیر الدین صاحب) حضرت مولوی عبداللہ صاحب بوتالوی تحریر فرماتے ہیں کہ سید عبد الحئی صاحب عرب جو عرب سے آ کر بہت دنوں تک قادیان میں بغرض تحقیق ٹھہرے رہے اور بعد میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی۔انہوں نے خاکسار سے اپنی بیعت کرنے کا حال اس طرح بیان کیا تھا، فرمایا کہ ” میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فصیح و بلیغ تصانیف کو پڑھ کر اس بات کا دل ہی میں قائل ہو گیا تھا کہ ایسا کلام سوائے تائید الہی کے اور کوئی لکھ نہیں سکتا۔لیکن یہ مجھے یقین نہیں آتا تھا کہ یہ کلام خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے۔اگر چہ مجھے حضرت مولوی نورالدین صاحب اور دیگر علماء اس بات کا یقین دلاتے اور شہادت دیتے تھے لیکن میرے شبہ کو ان کا بیان دور نہ کر سکا اور میں نے مختلف طریقوں سے اس بات کا ثبوت مہیا کرنا شروع کر دیا کہ آیا واقعی یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنا ہی کلام ہے؟ اور کسی دوسرے کی امداد اس میں شامل نہیں۔چنانچہ میں عربی میں بعض خطوط حضرت اقدس کی خدمت میں لکھ کر ان کے جواب عربی میں حاصل کرتا اور پھر اس عبارت کو غور سے پڑھتا اور اس کا مقابلہ حضور کی تصانیف سے کر کے معلوم کرتا تھا کہ یہ دونوں کلام ایک جیسے ہیں۔لیکن پھر بھی مجھے کچھ نہ کچھ ان میں فرق ہی نظر آتا جس کا جواب مجھے یہ دیا جاتا کہ حضرت اقدس کا عام کلام جو خطوں وغیرہ کے جواب میں تحریر ہوتا ہے اس میں معجزانہ رنگ اور خاص تائید الہی نہیں ہوسکتی چونکہ عربی تصانیف کو حضرت صاحب نے متحد یا نہ طور پر خدا تعالیٰ کے منشا اور حکم کے ماتحت اس کی خاص تائید سے لکھا ہے اس لئے ان کا رنگ جدا ہوتا ہے اور جدا ہونا چاہئے ورنہ عام لیاقت اور خاص تائید الہی میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔