خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 224
خطبات مسرور جلد 12 224 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 اپریل 2014ء لفظ پوچھا بھی جایا کرتے تھے۔) غرضیکہ مولوی صاحبان خود اپنے اصلاح کے دریافت کرتے تھے۔حضرت اس کی تصحیح فرماتے تھے۔پھر ختم ہونے پر حضور نے مولوی عبد الکریم صاحب کو فر ما یا کہ آپ ترجمہ کر کے پبلک کو سنا دیں چنانچہ مولوی صاحب نے ترجمہ سنایا اور پھر سجدہ شکر مسجد میں ادا کیا گیا۔“ (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر 8 صفحہ 212 روایات حضرت مرزا افضل بیگ صاحب) حضرت مولانا شیر علی صاحب فرماتے ہیں کہ اس عید کا خطبہ الہامیہ حضرت صاحب نے پڑھایا۔یوم الحج کی صبح کو حضرت مسیح موعود نے حضرت مولوی صاحب کو پیغام بھیجا یا خط لکھا کہ جتنے لوگ یہاں موجود ہیں ان کے نام لکھ کر میرے پاس بھیج دیں تا میں ان کے لئے دعا کروں۔حضرت مولوی صاحب نے موجود احباب کو تعلیم الاسلام سکول میں جمع کیا۔( تعلیم الاسلام ان دنوں مدرسہ احمدیہ کی جگہ میں تھا) اور لوگوں کے ناموں کی فہرست تیار کروائی اور حضرت صاحب کی خدمت میں بھیجی۔حضرت صاحب نے اپنے دالان کے دروازے بند کر کے دعائیں فرمائیں۔بعض لوگ جو پیچھے آتے تھے بند دروازے میں سے اپنے رقعے اندر پہنچاتے تھے۔اس دن صبح کو حضرت مسیح موعود عید کے لئے نکلے مسجد مبارک کی سیڑھیوں سے تو آپ نے فرمایا کہ رات کو مجھے الہام ہوا ہے کہ کچھ کلمات عربی میں کہو۔اس لئے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور حضرت مولوی نور الدین صاحب دونوں کو پیغام بھیجا کہ وہ کاغذ اور قلم دوات لے کر آویں۔کیونکہ عربی میں کچھ کلمات پڑھنے کا الہام ہوا ہے۔نماز مولوی عبد الکریم نے پڑھائی اور مسیح موعود نے پھر اردو میں خطبہ فرمایا غالباً کرسی پر بیٹھ کر۔اردو خطبے کے بعد آپ نے عربی خطبہ پڑھنا شروع کیا کرسی پر بیٹھ کر۔اس وقت آپ پر ایک خاص حالت طاری تھی۔آنکھیں بند تھیں۔ہر جملے میں پہلی آواز اونچی تھی ، پھر دھیمی ہو جاتی تھی۔سامنے بائیں طرف حضرت مولوی صاحبان لکھ رہے تھے۔ایک لفظ دونوں میں سے ایک نے نہ سنا اس لئے پوچھا تو حضرت نے وہ لفظ بتایا اور پھر فرمایا کہ جو لفظ سنائی نہ دے وہ ابھی پوچھ لینا چاہئے کیونکہ ممکن ہے مجھے بھی یاد نہ رہے۔آپ نے فرمایا کہ جب تک اوپر سے سلسلہ جاری رہا میں بولتا رہا اور جب ختم ہو گیا بس کر دیا۔پھر حضرت صاحب نے اس کے لکھوانے کا خاص اہتمام کیا اور خود ہی اس کا دوزبانوں فارسی اور اردو میں ترجمہ کیا اور یہ تحریک بھی فرمائی کہ اس کو لوگ یاد کر لیں جس طرح قرآن مجید یا دکیا جاتا ہے۔چنانچہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی محمد علی صاحب نے اس کو یاد کر کے مسجد مبارک میں با قاعدہ حضرت صاحب کو سنایا۔اس کے بعد میرے بھائی حافظ عبدالعلی صاحب نے حضرت مولوی صاحب سے اس کے متعلق پوچھا۔مولوی صاحب نے جواب دیا کہ ہم