خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 220
خطبات مسرور جلد 12 220 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 اپریل 2014ء خدا نے ہی حکم دیا ہے اور پھر فرمایا کہ رات الہام ہوا ہے کہ مجمع میں کچھ عربی فقرے پڑھو۔میں کوئی اور مجمع سمجھتا تھا۔شاید یہی مجمع ہو۔( یعنی عید کا ) پھر یہ بھی رپورٹس میں ہے کہ ) ” جب حضرت اقدس عربی خطبہ پڑھنے کے لئے تیار ہوئے تو حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور حضرت مولوی نور الدین صاحب کو حکم دیا کہ وہ قریب تر ہو کر اس خطبہ کو لکھیں۔جب حضرات مولوی صاحبان تیار ہو گئے تو حضور نے يَا عِبَادَ اللہ کے لفظ سے عربی خطبہ شروع فرمایا۔اثناء خطبہ میں حضرت اقدس نے یہ بھی فرمایا اب لکھ لو پھر یہ لفظ چلے جاتے ہیں“ ( یعنی ساتھ ساتھ لکھتے جاؤ۔اگر کوئی لفظ سمجھ نہیں آیا تو ابھی پوچھ لینا ) جب حضرت اقدس خطبہ پڑھ کر بیٹھ گئے، تو اکثر احباب کی درخواست پر مولا نامولوی عبدالکریم صاحب اس کا ترجمہ سنانے کے لئے کھڑے ہوئے۔اس سے پیشتر کہ مولانا موصوف ترجمہ سنائیں، حضرت اقدس نے فرمایا کہ اس خطبہ کو کل عرفہ کے دن اور عید کی رات میں جو میں نے دعائیں کی ہیں ان کی قبولیت کے لیے نشان رکھا گیا تھا کہ اگر میں یہ خطبہ عربی زبان میں ارتجالاً پڑھ گیا، تو وہ ساری دعائیں قبول سمجھی جائیں گی۔الحمد للہ کہ وہ ساری دعائیں بھی خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق قبول ہو گئیں۔۔۔۔( آپ نے یہ فرمایا اور پھر اس کا اردو میں ترجمہ شروع ہوا۔۔۔۔۔ابھی مولانا عبدالکریم صاحب تر جمہ سناہی رہے تھے کہ حضرت اقدس علیہ السلام فرط جوش کے ساتھ سجدہ شکر میں جا پڑے۔حضور کے ساتھ تمام حاضرین نے سجدہ شکر ادا کیا۔سجدہ سے سر اٹھا کر حضرت اقدس نے فرمایا ا بھی میں نے سرخ الفاظ میں لکھا دیکھا ہے کہ ”مبارک یہ گویا قبولیت کا نشان ہے۔“ " یر پورٹ الحکم میں شائع ہوئی تھی جو ملفوظات میں بھی درج ہے۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 29 تا 31) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی کتاب ” نزول مسیح “ میں تحریر فرماتے ہیں کہ عید اضحی کی صبح کو مجھے الہام ہوا کہ کچھ عربی میں بولو۔چنانچہ بہت احباب کو اس بات سے اطلاع دی گئی اور اس سے پہلے میں نے کبھی عربی زبان میں کوئی تقریر نہیں کی تھی لیکن اس دن میں عید کا خطبہ عربی