خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 215
خطبات مسرور جلد 12 215 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 104 اپریل 2014ء ہو کہ فلاں جگہ سانپ ہے تو اس راستہ سے نہیں گزرے گا۔اسی طرح اگر اس کو یہ یقین ہو جاوے کہ گناہ کا زہر اس کو ہلاک کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت سے ڈرے اور اس کو یقین ہو کہ وہ گناہ کو نا پسند کرتا ہے اور گناہ پر سخت سزا دیتا ہے تو اس کو گناہ پر دلیری اور جرات نہ ہو۔زمین پر پھر اس طرح سے چلتا ہے جیسے مردہ چلتا ہے۔اسکی روح ہر وقت خدا تعالیٰ کے پاس ہوتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 63-62 پھر فرمایا کہ انسان جب خدا تعالیٰ کی محبت کی آگ میں پڑ کر اپنی تمام ہستی کو جلا دیتا ہے تو وہی محبت کی موت اس کو ایک نئی زندگی بخشتی ہے۔کیا تم نہیں سمجھ سکتے کہ محبت بھی ایک آگ ہے اور گناہ بھی ایک آگ ہے۔پس یہ آگ جو محبت الہی کی آگ ہے گناہ کی آگ کو معدوم کر دیتی ہے۔یہی نجات کی جڑھ ہے۔“ ( قادیان کے آریہ اور ہم ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 448) خاص طور پر جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”خدا نہ معمولی طور پر بلکہ نشان کے طور پر کامل منتقی کو بلا سے بچاتا ہے ہر یک مکار یا نادان متقی ہونے کا دعوی کرتا ہے مگر متقی وہ ہے جو خدا کے نشان سے متقی ثابت ہو۔ہر ایک کہہ سکتا ہے کہ میں خدا سے پیار کرتا ہوں۔مگر خدا سے پیار وہ کرتا ہے جس کا پیار آسمانی گواہی سے ثابت ہو۔اور ہر ایک کہتا ہے کہ میرا مذہب سچا ہے مگر سچا مذہب اس شخص کا ہے جس کو اسی دنیا میں نور ملتا ہے۔اور ہر ایک کہتا ہے کہ مجھے نجات ملے گی مگر اس قول میں سچا وہ شخص ہے جو اسی دنیا میں نجات کے انوار دیکھتا ہے۔سو تم کوشش کرو کہ خدا کے پیارے ہو جاؤ تا تم ہر ایک آفت سے بچائے جاؤ۔“ کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 82) پھر خدا کی محبت ہمیں اپنے دلوں میں پیدا کرنے کے لئے کس طرز سے آپ نے نصیحت فرمائی ہے، اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔فرمایا کہ کیا بد بخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں۔کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوب صورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے۔اور یہ عمل خرید نے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑ و کہ وہ تمہیں سیراب