خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 214
خطبات مسرور جلد 12 214 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 104 اپریل 2014ء غرق ہو جائے اور عشق کمال ہو، محبت میں سچا جوش اور عہد عشق میں ثابت قدمی ایسی کوٹ کوٹ کے بھری ہو کہ جس کو کوئی صدمہ جنبش میں نہ لا سکے (جس کو کوئی صدمہ ہلا نہ سکے ) اور معشوق کی طرف سے کبھی کبھی بے پرواہی اور خاموشی ہو۔درد دو قسم کا موجود ہو۔ایک تو وہ جو اللہ تعالیٰ کی محبت کا درد ہو۔دوسرا وہ جو کسی کی مصیبت پر دل میں درد اٹھے اور خیر خواہی کے لیے اضطراب پیدا ہو۔اور اس کی اعانت کے لیے بے چینی پیدا ہو۔خدا تعالیٰ کی محبت کے لیے جو اخلاص اور درد ہوتا ہے اور ثابت قدمی اس کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے وہ انسان کو بشریت سے الگ کر کے الوہیت کے سایہ میں لا ڈالتا ہے۔جب تک اس کی حد تک درد اور عشق نہ پہنچ جائے کہ جس میں غیر اللہ سے محویت حاصل ہو جائے اس وقت تک انسان خطرات میں پڑا رہتا ہے۔ان خطرات کا استیصال بغیر اس امر کے مشکل ہوتا ہے کہ انسان غیر اللہ سے بکلی منقطع ہو کر اسی کا ہو جائے اور اس کی رضا میں داخل ہونا بھی محال ہوتا ہے اور اس کی مخلوق کے لیے ایسا درد ہونا چاہئے جس طرح ایک نہایت ہی مہربان والدہ اپنے ناتواں پیارے بچے کے لیے دل میں سچا جوش محبت رکھتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 42-41) یعنی کہ اللہ تعالیٰ کے غیر سے بالکل تعلق قطع کر لینا اور دوسرے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا دردبھی دل میں رکھنا چاہئے۔یہ اصل ہے جو ایک صحیح مؤمن کے دل میں ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا عاشق ہو۔پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا تعلق قومی اور محبت صافی تب ہو سکتی ہے جب اس کی ہستی کا پتہ لگے۔دنیا اس قسم کے شبہات کے ساتھ خراب ہوئی ہے۔بہت سے تو کھلے طور پر دہر یہ ہو گئے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو د ہر یہ تو نہیں ہوئے مگر ان کے رنگ میں رنگین ہیں اور اسی وجہ سے دین میں ست ہو رہے ہیں۔اس کا علاج یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں تا ان کی معرفت زیادہ ہو اور صادقوں کی صحبت میں رہیں جس سے وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور تصرف کے تازہ بتازہ نشان دیکھتے رہیں۔پھر وہ جس طرح پر چاہے گا اور جس راہ سے چاہے گا معرفت بڑھا دے گا اور بصیرت عطا کرے گا اور مثلج قلب ہو جائے گا“۔( یعنی دل تسلی پائے گا) یہ بالکل سچ ہے کہ جس قدر اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی عظمت پر ایمان ہو گا اسی قدر اللہ تعالیٰ سے محبت اور خوف ہوگا ورنہ غفلت کے ایام میں جرائم پر دلیر ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ سے محبت اور اس کی عظمت اور جبروت کا رعب اور خوف ہی دوا یسی چیزیں ہیں جن سے گناہ جل جاتے ہیں اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ انسان جن اشیاء سے ڈرتا ہے، پر ہیز کرتا ہے۔مثلاً جانتا ہے کہ آگ جلا دیتی ہے اس لیے آگ میں ہاتھ نہیں ڈالتا۔یا مثلاً اگر یہ علم