خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 210
خطبات مسرور جلد 12 210 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 اپریل 2014ء صالحہ کے ساتھ اپنے تئیں باہر نکالنا۔“ یعنی گناہوں کا جو پردہ پڑا ہوا ہے اس کو دور کرنے کے لئے اعمال صالحہ کی ضرورت ہے اور اعمال صالحہ بجالانے کے لئے جو اس پردے کو دور کر دیں جیسا کہ میں خطبات میں چند ماہ پہلے یا چند ہفتوں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ ان کے لئے پھر قوت ارادی اور علم کا پیدا ہونا اور قوت عملی کی ضرورت ہے، تبھی یہ حجاب دور ہوتے ہیں اور اعمال صالحہ کرنے کی توفیق ملتی ہے اور پھر ان برائیوں سے انسان باہر آتا ہے۔فرمایا اور تو بہ صرف زبان سے نہیں ہے بلکہ تو بہ کا کمال اعمال صالحہ کے ساتھ ہے۔“ ( کہ زبان سے تو یہ کہنا کوئی ضروری نہیں بلکہ تو بہ اسی وقت ہے، یہ تو بہ اس وقت مکمل ہوگی ، اسی وقت تو بہ سمجھی جائے گی جب اعمال صالحہ بھی ساتھ ساتھ بجالائے جارہے ہوں ” تمام نیکیاں تو بہ کی تکمیل کے لئے ہیں کیونکہ سب سے مطلب یہ ہے کہ ہم خدا سے نزدیک ہو جائیں۔دعا بھی تو بہ ہے کیونکہ اس سے بھی ہم خدا کا قرب ڈھونڈتے ہیں۔اسی لئے خدا نے انسان کی جان کو پیدا کر کے اس کا نام روح رکھا۔کیونکہ اس کی حقیقی راحت اور آرام خدا کے اقرار اور اسکی محبت اور اسکی اطاعت میں ہے۔اور اس کا نام نفس رکھا کیونکہ وہ خدا سے اتحاد پیدا کر نیوالا ہے۔روح اس لئے رکھا کہ اس کو خدا کی محبت میں راحت ملتی ہے اس کو اور نفس اس لئے کہ نفس میں خدا تعالیٰ سے جڑنے کی صلاحیت ہے۔یہ نکتہ آپ نے بیان فرمایا کہ خدا نے انسان کی جان کو پیدا کر کے اس کا نام اس لئے روح رکھا کیونکہ اس کی حقیقی راحت اور آرام خدا کے اقرار اور اس کی محبت اور اس کی اطاعت میں ہے۔روح کی راحت اسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں انسان فنا ہو جائے اس کے احکامات کی پابندی کرے، اطاعت کرے۔نفس اس لئے رکھا کیونکہ وہ خدا سے اتحاد پیدا کرنے والا ہے یعنی خدا تعالیٰ کے ساتھ جڑنے کی اس میں صلاحیت موجود ہے ) فرمایا کہ خدا سے دل لگانا ایسا ہوتا ہے جیسا کہ باغ میں وہ درخت ہوتا ہے جو باغ کی زمین سے خوب پیوستہ ہوتا ہے۔یہی انسان کا جنت ہے۔اور جس طرح درخت زمین کے پانی کو چوستا اور اپنے اندر کھینچتا اور اس سے اپنے زہر یلے بخارات باہر نکالتا ہے اسی طرح انسان کے دل کی حالت ہوتی ہے کہ وہ خدا کی محبت کا پانی چوس کر زہریلے مواد کے نکالنے پر قوت پاتا ہے اور بڑی آسانی سے اُن مواد کو دفع کرتا ہے۔اور خدا میں ہوکر پاک نشو نما پاتا جاتا ہے۔اور بہت پھیلتا اور خوشنما سرسبزی دکھلاتا اور اچھے پھل لاتا ہے۔مگر جو خدا میں پیوستہ نہیں وہ نشوونما دینے والے پانی کو چوس نہیں سکتا اس لئے دم بدم خشک ہوتا چلا جاتا ہے۔آخر پتے بھی گر جاتے ہیں اور خشک اور بدشکل ٹہنیاں رہ جاتی ہیں۔پس چونکہ گناہ کی خشکی بے تعلقی سے پیدا ہوتی ہے اس لئے اس خشکی