خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 209 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 209

خطبات مسرور جلد 12 209 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 104 اپریل 2014ء اور قصور جو بوجہ ضعف بشریت انسان سے صادر ہو سکتی ہے اس امکانی کمزوری کو دور کرنے کے لئے خدا سے مدد مانگی جائے تا خدا کے فضل سے وہ کمزوری ظہور میں نہ آوے۔اور مستور مخفی رہے۔“ ( چھپی رہے کمزوری۔ظاہر نہ ہو پھر بعد اس کے استغفار کے معنی عام لوگوں کے لئے وسیع کئے گئے اور یہ امر بھی استغفار میں داخل ہوا کہ جو کچھ لغزش اور قصور صادر ہو چکا خدا تعالیٰ اس کے بدنتائج اور زہریلی تا شیروں سے دنیا اور آخرت میں محفوظ رکھے۔پس نجات حقیقی کا سرچشمہ محبت ذاتی خدائے عز وجل کی ہے جو عجز ونیاز اور دائمی استغفار کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔اور جب انسان کمال درجہ تک اپنی محبت کو پہنچاتا ہے اور محبت کی آگ سے اپنے جذبات نفسانیت کو جلا دیتا ہے تب یکدفعہ ایک شعلہ کی طرح خدا تعالیٰ کی محبت جو خدا تعالیٰ اس سے کرتا ہے اس کے دل پر گرتی ہے اور اس کو سفلی زندگی کے گندوں سے باہر لے آتی ہے اور خدائے تھی وقیوم کی پاکیزگی کا رنگ اس کے نفس پر چڑھ جاتا ہے بلکہ تمام صفات الہیہ سے ظلی طور پر اس کو حصہ ملتا ہے۔تب وہ تجلیات الہیہ کا مظہر ہو جاتا ہے اور جو کچھ ربوبیت کے ازلی خزانہ میں مکتوم و مستور ہے (چھپا ہوا ہے ) اس کے ذریعہ سے وہ اسرار دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں۔چونکہ وہ خدا جس نے اس دنیا کو پیدا کیا ہے بخیل نہیں ہے بلکہ اس کے فیوض دائمی ہیں اور اس کے اسماء اور صفات کبھی معطل نہیں ہو سکتے۔۔۔6 چشمه مسیحی ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 378-380) پھر اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ گناہوں کو دور کرنا اور اعمال صالحہ بجالا نا بغیر خدا تعالیٰ کی محبت کے ممکن نہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ وو گناه در حقیقت ایک ایسا زہر ہے جو اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب انسان خدا کی اطاعت اور خدا کی پر جوش محبت اور محبانہ یاد الہی سے محروم اور بے نصیب ہو۔اور جیسا کہ ایک درخت جب زمین سے اکھڑ جائے اور پانی چوسنے کے قابل نہ رہے تو وہ دن بدن خشک ہونے لگتا ہے اور اس کی تمام سرسبزی برباد ہو جاتی ہے۔یہی حال اس انسان کا ہوتا ہے جس کا دل خدا کی محبت سے اکھڑا ہوا ہوتا ہے۔پس خشکی کی طرح گناہ اس پر غلبہ کرتا ہے سو اس خشکی کا علاج خدا کے قانون قدرت میں تین طور سے ہے۔(۱) ایک محبت (۲) استغفار جس کے معنے ہیں دبانے اور ڈھانکنے کی خواہش۔کیونکہ جب تک مٹی میں درخت کی جڑ جمی رہے تب تک وہ سرسبزی کا امیدوار ہوتا ہے۔(۳) تیسر ا علاج تو بہ ہے۔یعنی زندگی کا پانی کھینچنے کے لئے تذلل کے ساتھ خدا کی طرف پھرنا اور اس سے اپنے تئیں نزدیک کرنا اور معصیت کے حجاب سے اعمال