خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 208
خطبات مسرور جلد 12 208 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 اپریل 2014ء اصل عبادت وہی ہے جو محبت ذاتی سے ہو نہ کہ کسی فائدے کے لئے۔پھر ایک جگہ سچی محبت کی علامت بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ وو محبت عجیب چیز ہے۔اس کی آگ گناہوں کی آگ کو جلاتی اور معصیت کے شعلے کو بھسم کر دیتی ہے۔سچی اور ذاتی اور کامل محبت کے ساتھ عذاب جمع ہو ہی نہیں سکتا اور سچی محبت کے علامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کی فطرت میں یہ بات منقوش ہوتی ہے کہ اپنے محبوب کے قطع تعلق کا اُس کو نہایت خوف ہوتا ہے اور ایک ادنیٰ سے ادنیٰ قصور کے ساتھ اپنے تئیں ہلاک شدہ سمجھتا ہے اور اپنے محبوب کی مخالفت کو اپنے لئے ایک زہر خیال کرتا ہے اور نیز اپنے محبوب کے وصال کے پانے کے لئے نہایت بے تاب رہتا ہے اور بعد اور دُوری کے صدمہ سے ایسا گداز ہوتا ہے کہ بس مر ہی جاتا ہے۔اس لئے وہ صرف ان باتوں کو گناہ نہیں سمجھتا کہ جو عوام سمجھتے ہیں کہ قتل نہ کر۔خون نہ کر۔زنانہ کر۔چوری نہ کر۔جھوٹی گواہی نہ دے۔بلکہ وہ ایک ادنیٰ غفلت کو اور ادنی التفات کو جو خدا کو چھوڑ کر غیر کی طرف کی جائے ایک کبیرہ گناہ خیال کرتا ہے۔اس لئے اپنے محبوب از لی کی جناب میں دوام استغفار اس کا ورد ہوتا ہے۔“ ( با قاعدگی سے استغفار کرتا رہتا ہے ) ” اور چونکہ اس بات پر اس کی فطرت راضی نہیں ہوتی کہ وہ کسی وقت بھی خدا تعالیٰ سے الگ رہے اس لئے بشریت کے تقاضا سے ایک ذرہ غفلت بھی اگر صادر ہو تو اس کو ایک پہاڑ کی طرح گناہ سمجھتا ہے۔یہی بھید ہے کہ خدا تعالیٰ سے پاک اور کامل تعلق رکھنے والے ہمیشہ استغفار میں مشغول رہتے ہیں کیونکہ یہ محبت کا تقاضا ہے کہ ایک محب صادق کو ہمیشہ یہ فکر لگی رہتی ہے کہ اس کا محبوب اس پر ناراض نہ ہو جائے اور چونکہ اس کے دل میں ایک پیاس لگا دی جاتی ہے کہ خدا کامل طور پر اس سے راضی ہو اس لئے اگر خدا تعالیٰ یہ بھی کہے کہ میں تجھ سے راضی ہوں تب بھی وہ اس قدر پر صبر نہیں کرسکتا کیونکہ جیسا کہ شراب کے دور کے وقت ایک شراب پینے والا ہر دم ایک مرتبہ پی کر پھر دوسری مرتبہ مانگتا ہے۔اسی طرح جب انسان کے اندر محبت کا چشمہ جوش مارتا ہے تو وہ محبت طبعاً یہ تقاضا کرتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔(اگر اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا میں راضی ہوں تو بیٹھ نہیں جانا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی اطلاع ہونا اس شخص کو مزید استغفار میں اور عبادتوں میں مائل کرتی ہے اور بجالانے کی طرف توجہ دلاتی ہے) فرمایا پس محبت کی کثرت کی وجہ سے استغفار کی بھی کثرت ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ خدا سے کامل طور پر پیار کرنے والے ہر دم اور ہر لحظہ استغفار کو اپنا ور در کھتے ہیں۔اور سب سے بڑھ کر معصوم کی یہی نشانی ہے کہ وہ سب سے زیادہ استغفار میں مشغول رہے۔اور استغفار کے حقیقی معنی یہ ہیں کہ ہر ایک لغزش