خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 197 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 197

خطبات مسرور جلد 12 197 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 مارچ 2014ء صرف استخارہ کر رہی تھی تو خدا تعالیٰ نے مجھے یہ دونوں شخصیات دکھا ئیں لیکن شیطان نے مجھے بہکا دیا اور اب خدا کا شکر ہے کہ اس نے مجھے حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور اس بہکاوے سے میں باہر نکل آئی۔میری استقامت اور مغفرت کے لئے دعا کی درخواست ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو استقامت بخشے۔پھر مراکش کی ایک خاتون فاہمی صاحبہ ہیں، وہ کہتی ہیں لقاء مع العرب کے ذریعہ سے تعارف ہوا۔پھر لکھتی ہیں کہ حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی بات گو کہ مدلل اور مطمئن کرنے والی ہوتی تھی اس کے باوجود تقریباً ہر پروگرام میں ہی وہ استخارہ کرنے اور خدا تعالیٰ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کے بارے میں دعا کرنے کی طرف بھی توجہ دلاتے تھے۔چنانچہ میں نے استخارہ شروع کیا اور خواب میں دیکھا کہ ایک وسیع علاقے میں لمبا اور بہت بڑا خیمہ لگا ہوا ہے اس خیمہ میں ایک شخص بہت غمزدہ اور حزین بیٹھا ہوا ہے۔اتنے میں ایک شخص اس کے پاس آتا ہے اور پوچھتا ہے کہ تم اتنے دکھی کیوں ہو؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میں مسیح موعود ہوں میں لوگوں کو سیدھے راستے کی طرف بلاتا ہوں لیکن لوگ میری تصدیق نہیں کرتے۔اس پر سوال کرنے والا شخص اسے کہتا ہے کہ میں تیری تصدیق کرتا ہوں۔میں محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوں۔اس رؤیا کے بعد میں نے کہا۔اب جو ہونا ہے ہو جائے۔اب مجھے کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے۔چنانچہ میں نے فوراً بیعت کر لی اور بیعت کے ساتھ ہی پردہ کرنا بھی شروع کر دیا۔پھر یہ یہاں بھی آئی تھیں۔جلسہ کا جو نظارہ انہوں نے دیکھا اور خیمہ دیکھا۔تو کہتی ہیں یہ ہو بہو وہی خیمہ تھا جہاں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اکیلے بیٹھے دیکھا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر آپ کو فرمایا تھا کہ میں آپ کی تصدیق کرتا ہوں۔پھر مالی سے عبداللہ صاحب معلم تحریر کرتے ہیں باماکو (Bamako) کے استاد (Dambele) دا مبلے صاحب ہیں۔وہ احمدیت کے سخت مخالف تھے۔جب بھی وہ احمد یہ ریڈ یوٹیلیفون کرتے تو جماعت کو گالیاں نکالنے لگ جاتے اور اگر انہیں ٹیلیفون کیا جا تا تو پھر بھی جماعت کو سخت گالیاں دیتے۔اسی طرح کرتے ہوئے انہیں کافی عرصہ گزر گیا۔ایک دن انہوں نے روتے ہوئے احمد یہ ریڈیو ٹیلیفون کیا جس کا نام ربوہ FM ہے، اور بتایا کہ انہوں نے ایک رات پہلے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خواب میں دیکھا تھا اور جو نور اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ دیکھا ہے وہ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔لہذا اب وہ جماعت سے صدق دل سے معافی مانگتے ہیں اور وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر احمدیوں نے اسے معاف نہ کیا تو خدا بھی معاف نہیں کر دیگا۔اس پر معلم صاحب نے انہیں