خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 193 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 193

خطبات مسرور جلد 12 193 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 مارچ 2014ء بلکہ ہزار ہا نشان ہیں جن میں سے بعض ہم اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں لکھ چکے ہیں۔جب سن ہجری کی تیرھویں صدی ختم ہو چکی تو خدا نے چودھویں صدی کے سر پر مجھے اپنی طرف سے مامور کر کے بھیجا اور آدم سے لے کر اخیر تک جس قدر نبی گذر چکے ہیں سب کے نام میرے نام رکھ دیئے اور سب سے آخری نام میرا عیسی موعود اور احمد اور محمد معہود رکھا۔اور دونوں ناموں کے ساتھ ساتھ بار بار مجھے مخاطب کیا۔ان دونوں ناموں کو دوسرے لفظوں میں مسیح اور مہدی کر کے بیان کیا گیا۔اور جو معجزات مجھے دیئے گئے بعض ان میں سے وہ پیشگوئیاں ہیں جو بڑے بڑے غیب کے امور پر مشتمل ہیں کہ بجز خدا کے کسی کے اختیار اور قدرت میں نہیں کہ ان کو بیان کر سکے اور بعض دعائیں ہیں جو قبول ہو کر ان سے اطلاع دی گئی اور بعض بددعائیں ہیں جن کے ساتھ شریر دشمن ہلاک کئے گئے اور بعض دعائیں از قسم شفاعت ہیں جن کا مرتبہ دعا سے بڑھ کر ہے اور بعض مباہلات ہیں جن کا انجام یہ ہوا کہ خدا نے دشمنوں کو ہلاک اور ذلیل کیا اور بعض صلحائے زمانہ کی وہ شہادتیں ہیں جنہوں نے خدا سے الہام پا کر میری سچائی کی گواہی دی۔اور بعض ایسے صلحائے اسلام کی شہادتیں ہیں جو میرے ظہور سے پہلے فوت ہو چکے تھے جنہوں نے میرا نام لے کر اور میرے گاؤں کا نام لے کر گواہی دی تھی کہ وہی مسیح موعود ہے جو جلد آنے والا ہے اور بعض نے ایسے وقت میں میرے ظہور کی خبر دی تھی جب کہ میں ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا اور بعض نے میرے ظہور کے بارے میں ایسے وقت میں خبر دی تھی جب کہ میری عمر شاید دس ۱۰ یا بارہ ۱۲ برس کی ہوگی اور اپنے بعض مریدوں کو بتلادیا تھا کہ تم اس قدر عمر پاؤ گے ( ان بزرگوں نے بعض مریدوں کو بتلا دیا تھا کہ تم اس قدر عمر پاؤ گے کہ ان کو دیکھ لو گے اور جو نشانیاں زمانہ مہدی معہود کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کی تھیں جیسا کہ اس کے زمانہ میں کسوف خسوف رمضان میں ہونا اور طاعون کا ملک میں پھیلنا یہ تمام شہادتیں میرے لئے ظہور میں آگئیں اور اس وقت تک چودھویں صدی کا بھی میں نے چہارم حصہ پالیا۔یہ اس قدر دلائل اور شواہد ہیں کہ اگر وہ سب کے سب لکھے جائیں تو ہزار جزو میں بھی سما نہیں سکتے۔“ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 328-329) یہ اقتباس چشمہ معرفت کا ہے، اس سے پہلے جو تھا وہ حقیقۃ الوحی کا تھا۔ان اقتباسات میں مخالفین کے انجام کے بارے میں بھی ذکر ہوا جو نشان پورا ہونے کا ذریعہ بن کر اپنے بد انجام کو پہنچے، اس دنیا سے رخصت ہوئے۔بعض دوسرے قبولیت دعا اور نشانات کا بھی ذکر ہوا۔اب میں قبول احمدیت کے چند