خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 192 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 192

خطبات مسرور جلد 12 192 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 مارچ 2014ء سخت مخالف تھا۔یہ وہی شخص تھا جس نے ارادہ کیا تھا کہ سیالکوٹ میں آپ کی سواری گذرنے پر آپ پر راکھ ڈالے۔آخر وہ سخت طاعون سے اسی 1906ء میں ہلاک ہوا اور اس کے گھر کے نو یا دس آدمی بھی طاعون سے ہلاک ہوئے۔ایسا ہی شہر سیالکوٹ میں یہ بات سب کو معلوم ہے کہ حکیم محمد شفیع جو بیعت کر کے مرتد ہو گیا تھا جس نے مدرستہ القرآن کی بنیاد ڈالی تھی آپ کا سخت مخالف تھا یہ بد قسمت اپنی اغراض نفسانی کی وجہ سے بیعت پر قائم نہ رہ سکا اور سیالکوٹ کے محلہ لوہاراں کے لوگ جو سخت مخالف تھے عداوت اور مخالفت میں ان کا شریک ہو گیا۔آخر وہ بھی طاعون کا شکار ہوا اور اس کی بیوی اور اس کی والدہ اور اس کا بھائی سب یکے بعد دیگرے طاعون سے مرے اور اس کے مدرسہ کو جولوگ امداد دیتے تھے وہ بھی ہلاک ہو گئے۔“ پھر فرمایا کہ ایسا ہی مرز اسردار بیگ سیالکوٹی جو اپنی گندہ زبانی اور شوخی میں بہت بڑھ گیا تھا اور ہر وقت استہزا اور ٹھٹھا اس کا کام تھا اور ہر ایک بات طنز اور شوخی سے کرتا تھا وہ بھی سخت طاعون میں گرفتار ہو کر ہلاک ہوا اور ایک دن اس نے شوخی سے جماعت احمدیہ کے ایک فردکو کہا کہ کیوں طاعون طاعون کرتے ہو ہم تو تب جانیں کہ ہمیں طاعون ہو۔پس اس سے دو دن بعد طاعون سے مر گیا۔“ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 235-238) حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : مجھے بھیجا گیا ہے تا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کھوئی ہوئی عظمت کو پھر قائم کروں اور قرآن شریف کی سچائیوں کو دنیا کو دکھاؤں اور یہ سب کام ہو رہا ہے لیکن جن کی آنکھوں پر پٹی ہے وہ اس کو دیکھ نہیں سکتے۔حالانکہ اب یہ سلسلہ سورج کی طرح روشن ہو گیا ہے اور اس کی آیات و نشانات کے اس قدر لوگ گواہ ہیں کہ اگر ان کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو ان کی تعداد اس قدر ہو کہ روئے زمین پر کسی بادشاہ کی بھی اتنی فوج نہیں ہے۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 14 ) پھر آپ نے ایک جگہ پر فرمایا کہ: ” خدا نے مجھے اصلاح کرنے کے لئے مامور کر کے بھیجا اور میرے ہاتھ پر وہ نشان دکھلائے کہ اگر ان پر ایسے لوگوں کو اطلاع ہو جن کی طبیعتیں تعصب سے پاک اور دلوں میں خدا کا خوف ہے اور عقل سلیم سے کام لینے والے ہیں تو وہ ان نشانوں سے اسلام کی حقیقت بخوبی شناخت کر لیں۔وہ نشان ایک دو نہیں