خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 191
خطبات مسرور جلد 12 وو 191 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 مارچ 2014ء تھے اور دن رات جنسی اور ٹھٹھا اور گالیاں دینا ان کا کام تھا آخر کا ر طاعون کا شکار ہو گئے جیسا کہ منشی محبوب عالم صاحب احمدی لاہور سے لکھتے ہیں کہ ایک میرا چا تھا جس کا نام نور احمد تھا وہ موضع بھڑی چٹھہ تحصیل حافظ آباد کا باشندہ تھا اس نے ایک دن مجھے کہا کہ مرزا صاحب اپنی مسیحیت کے دعوے پر کیوں کوئی نشان نہیں دکھلاتے۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کی طرف سے بیان دے رہے ہیں کہ محبوب عالم صاحب کہتے ہیں ” میں نے کہا کہ ان کے نشانوں میں سے ایک نشان طاعون ہے جو پیشگوئی کے بعد آئی جو دنیا کو کھاتی جاتی ہے۔تو اس بات پر وہ بول اٹھا کہ طاعون ہمیں نہیں چھوئے گی بلکہ یہ طاعون مرزا صاحب کو ہی ہلاک کرنے کے لئے آئی ہے۔اور اس کا اثر ہم پر ہر گز نہیں ہوگا، مرزا صاحب پر ہی ہوگا۔اسی قدر گفتگو پر بات ختم ہو گئی۔تو منشی محبوب عالم صاحب کہتے ہیں کہ ”جب میں لاہور پہنچا تو ایک ہفتہ کے بعد مجھے خبر ملی کہ چچا نور احمد طاعون سے مر گئے اور اس گاؤں کے بہت سے لوگ اس گفتگو کے گواہ ہیں اور یہ ایسا واقعہ ہے کہ چُھپ نہیں سکتا۔“ پھر آپ فرماتے ہیں: ” اور میاں معراج الدین صاحب لاہور سے لکھتے ہیں کہ مولوی زین العابدین جو مولوی فاضل اور منشی فاضل کے امتحانات پاس کردہ تھا اور مولوی غلام رسول قلعہ والے کے رشتہ داروں میں سے تھا اور دینی تعلیم سے فارغ التحصیل تھا اور انجمن حمایت اسلام لاہور کا ایک مقرب مدرس تھا۔اُس نے حضور کے صدق کے بارہ میں مولوی محمد علی سیالکوٹی سے کشمیری بازار میں ایک دوکان پر کھڑے ہو کر مباہلہ کیا۔پھر تھوڑے دنوں کے بعد بمرض طاعون مر گیا اور نہ صرف وہ بلکہ اسکی بیوی بھی طاعون سے مر گئی اور اس کا داماد بھی جو محکمہ اکانٹنٹ جنرل میں ملازم تھا طاعون سے مر گیا۔اسی طرح اس کے گھر کے سترہ آدمی مباہلہ کے بعد طاعون سے ہلاک ہو گئے۔“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ عجیب بات ہے کیا کوئی اس بھید کو سمجھ سکتا ہے کہ ان لوگوں کے خیال میں کا ذب اور مفتری اور دجال تو میں ٹھہر ا مگر مباہلہ کے وقت میں یہی لوگ مرتے ہیں۔کیا نعوذ باللہ خدا سے بھی کوئی غلط فہمی ہو جاتی ہے؟ ایسے نیک لوگوں پر کیوں یہ قہر الہی نازل ہے۔جو موت بھی ہوتی ہے اور پھر ذلت اور رسوائی بھی آپ فرماتے ہیں اور میاں معراج دین لکھتے ہیں کہ ایسا ہی کریم بخش نام لاہور میں ایک ٹھیکہ دار تھا وہ سخت بے ادبی اور گستاخی حضور کے حق میں کرتا تھا اور اکثر کرتا ہی رہتا تھا۔میں نے کئی دفعہ اس کو سمجھایا مگر وہ باز نہ آیا۔آخر جوانی کی عمر میں ہی شکار موت ہوا۔“ پھر آپ فرماتے ہیں کہ سید حامد شاہ صاحب سیالکوٹی لکھتے ہیں کہ حافظ سلطان سیالکوٹی حضور کا