خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 190
خطبات مسرور جلد 12 ہلاک ہو چکے ہیں 190 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 مارچ 2014ء وانى لشر الناس ان لم يكن لهم جزاء اهانتهم صغار يصغر اور میں سب بدلوگوں سے بدتر ہوں گا اگر ان کے لئے اہانت کی جزا اہانت نہ ہو قضى الله ان الطعن بالطعن بيننا فذالك طاعون اتاهم ليبصروا خدا نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ طعن کا بدلہ طعن ہے پس وہی طاعون ہے جو ان کو پکڑے گی ولما طغى الفسق المبيد بسيله تمنيت لو كان الوباء المتبر اور جب فسق ہلاک کرنے والا حد سے بڑھ گیا تو میں نے آرزو کی کہ اب ہلاک کر نیوالی طاعون چاہئے۔اور اس کے بعد یہ الہام ہوا۔ع اے بسا خانہ دشمن کہ تو ویران کر دی۔(فارسی میں یعنی تو نے کئی دشمنوں کے گھر ویران کئے ) اور یہ الحکم اور البدر میں شائع کیا گیا اور پھر مذکورہ بالا دعا ئیں جو دشمنوں کی سخت ایذاء کے بعد کی گئیں جناب الہی میں قبول ہو کر پیشگوئیوں کے مطابق طاعون کا عذاب ان پر آگ کی طرح برسا اور کئی ہزار دشمن جو میری تکذیب کرتا اور بدی سے نام لیتا تھا ہلاک ہو گیا۔لیکن اس جگہ ہم نمونہ کے طور پر چند سخت مخالفوں کا ذکر کرتے ہیں۔چنانچہ سب سے پہلے مولوی رسل بابا باشندہ امرتسر ذکر کے لائق ہے جس نے میرے رڈ میں کتاب لکھی اور بہت سخت زبانی دکھائی اور چند روزہ زندگی سے پیار کر کے جھوٹ بولا۔آخر خدا کے وعدہ کے موافق طاعون سے ہلاک ہوا۔پھر بعد اسکے ایک شخص محمد بخش نام جو ڈ پٹی انسپکٹر بٹالہ تھا عداوت اور ایذا پر کمر بستہ ہوا وہ بھی طاعون سے ہلاک ہوا۔پھر بعد اس کے ایک شخص چراغ دین نام ساکن جموں اٹھا جو رسول ہونے کا دعویٰ کرتا تھا جس نے میرا نام دجال رکھا تھا اور کہتا تھا کہ حضرت عیسی نے مجھے خواب میں عصا دیا ہے تا میں عیسی کے عصا سے اس دجال کو ہلاک کروں۔سو وہ بھی میری اس پیشگوئی کے مطابق جو خاص اسکے حق میں رسالہ ” دافع البلاء و معیار اہل الاصطفاء میں اسکی زندگی میں ہی شائع کی گئی تھی 1/4 پریل 1906ء کو مع اپنے دونوں بیٹوں کے طاعون سے ہلاک ہو گیا۔کہاں گیا عیسی کا عصا جس کے ساتھ مجھے قتل کرتا تھا؟ اور کہاں گیا اس کا الہام انّی لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ؟ افسوس اکثر لوگ قبل تزکیہ نفس کے حدیث النفس کو ہی الہام قرار دیتے ہیں ( یعنی نفس کو پاکیزہ کرنے سے پہلے ہی ، اپنے نفس کا تزکیہ کرنے سے پہلے ہی یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم بہت پاک ہو گئے ہیں اور جو اُن کی نفس کی خواہشات ہیں انہی کو الہام سمجھنے لگ جاتے ہیں۔فرمایا۔اس لئے آخر کار ذلت اور رسوائی سے انکی موت ہوتی ہے اور انکے سوا اور بھی کئی لوگ ہیں جو ایذا اور اہانت میں حد سے بڑھ گئے تھے اور خدا تعالیٰ کے قہر سے نہیں ڈرتے