خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 176 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 176

خطبات مسرور جلد 12 176 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 مارچ 2014 ء دیکھیں یہ الہام آج بھی کس شان سے پورا ہوا ہے کہ جب ڈاکٹر مارٹن کلارک کا پڑپوتا ہمارے سامنے کھل کر یہ اظہار کرتا ہے کہ میرا پڑ دا دا غلط تھا اور مرزا غلام احمد قادیانی سچے تھے۔اور یہ ریکارڈ ہوا ہوا ہے۔جلسہ میں کھل کے کہا۔وو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پھر ایک اور نشان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنے رسالہ فتح رحمانی میں جو 1315ھ کو میری مخالفت میں مطبع احمدی لدھیانہ میں چھاپ کر شائع کیا گیا مباہلہ کے رنگ میں میرے پر ایک بددعا کی تھی جیسا کہ کتاب مذکور کے صفحہ 26,27 میں ان کی یہ بددعا تھی :۔ی:۔اللّهُمَّ يَا ذَا الْجَلالِ وَالْإِكْرَامِ يَا مَالِكَ الْمُلْكِ جیسا کہ تو نے ایک عالم ربانی حضرت محمد طاہر مؤلف مجمع بحار الانوار کی دعا اور سعی سے اس مہدی کا ذب اور جعلی مسیح کا بیڑا غارت کیا (جو ان کے زمانہ میں پیدا ہوا تھا ویسا ہی دعا اور التجاء اس فقیر قصوری کان اللہ لہ سے ہے جو سچے دل سے تیرے دین متین کی تائید میں حتی الوسع ساعی ہے ( یہ کوشش کرتا ہے ) کہ تو مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کو تو بہ نصوح کی توفیق رفیق فرما۔اور اگر یہ مقدر نہیں تو اُن کو مورد اس آیت فرقانی کا بنا۔فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير وَبِالإِجَابَةِ جَدِيرٌ - آمین۔یعنی جو لوگ ظالم ہیں وہ جڑ سے کاٹے جائیں گے اور خدا کے لئے حمد ہے۔تو ہر چیز پر قادر ہے اور دعا قبول کرنے والا ہے۔آمین۔اور پھر صفحہ 26 کتاب مذکور کے حاشیہ میں مولوی مذکور نے میری نسبت لکھا ہے تَبالَهُ وَلِاَتْباعِهِ۔یعنی وہ اور اس کے پیرو ہلاک ہو جائیں۔پس خدا تعالیٰ کے فضل سے میں اب تک زندہ ہوں اور میرے پیر و اُس زمانہ سے قریبا پچاس حصہ زیادہ ہیں اور اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سینکڑوں ہزاروں حصے زیادہ ہو چکے ہیں۔) '' اور ظاہر ہے کہ مولوی غلام دستگیر نے میرے صدق یا کذب کا فیصلہ آیت فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا (الانعام : 46) پر چھوڑا تھا جس کے اس محل پر یہ معنی ہیں کہ جو ظالم ہو گا اس کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔اور یہ امرکسی اہل علم پر مخفی نہیں کہ آیت مدوحہ بالا کا مفہوم عام ہے جس کا اس شخص پر اثر ہوتا ہے جو ظالم ہے۔پس ضرور تھا کہ ظالم اس کے اثر سے ہلاک کیا جاتا۔لہذا چونکہ غلام دستگیر خدا تعالیٰ کی نظر میں ظالم تھا اس لئے اس قدر بھی اس کو مہلت نہ ملی جو اپنی اس کتاب کی اشاعت کو دیکھ لیتا۔اس سے پہلے ہی مر گیا۔اور سب کو معلوم ہے کہ وہ اس دعا سے چند روز بعد ہی فوت ہو گیا۔