خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 12
خطبات مسرور جلد 12 12 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جنوری 2014ء سال کے شروع میں ان کے ریجن کو تو نو کے اٹلانٹک ایریا میں اس قدر بارشیں ہوئیں کہ لوگوں کی فصلیں تباہ ہوگئیں اور وہاں قحط سالی کا سال بن گیا۔سب کچھ ڈوب گیا۔افراد کے پاس چندہ تو کیا کھانے کے لئے بھی کچھ نہیں بچا۔اس صورت حال میں تبدیلی کے لئے انہوں نے مجھے بھی دعا کے لئے لکھا، اور پھر وہاں کی ایک جماعت نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر ہماری فصلیں تباہ ہو گئی ہیں، دیہاتی جماعتیں تو چندہ اُسی پر دیتی ہیں، تو اس بار ہم یوں کریں گے کہ جو فصلیں ہم لگا ئیں گے اُس میں ایک پلاٹ یا کھیت یا جو کچھ فصل ہے اس میں وہ جماعتی فصل بھی لگائیں گے تاکہ وہ ساری کی ساری چندے پر چلی جائے۔اس کے بعد انہوں نے وہ فصل لگائی اور خدا تعالیٰ نے اُس میں اتنی برکت ڈالی کہ اُس میں سے تقریباً گیارہ ہزار آٹھ سوفرانک اُن کو آمد ہوئی جو انہوں نے چندے میں دے دی۔اسی طرح گیمبیا کی ایک خاتون کہتی ہیں کہ جب محصل ان سے چندہ لینے ان کے گھر آیا تو وہ بار بار گھر کے اندر جاتیں اور اپنے ہر بچے کی طرف سے بھی کچھ نہ کچھ چندے کی رقم لے آتیں۔مبلغ نے بتایا کہ یہ دیکھ کر اُن کے بچے بھی اندر گئے اور اپنے گلوں سے جو بھی معمولی رقم نکلی وہ پیش کر دی اور کہتے تھے کہ ہم کیوں ثواب سے پیچھے رہیں۔تو اس طرح اللہ تعالیٰ بچوں کے دلوں میں بھی چندوں کی اہمیت ڈالتا ہے۔اسی طرح گیمبیا کی ایک نومبائعہ ہیں، وہ کپڑا دھونے کا صابن لینے جارہی تھی تو رستے میں اُسے معلوم ہوا کہ اس طرح چندوں کی تحریک ہوئی ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ ہر شخص چندہ دے چاہے وہ تھوڑا ساہی دے۔اس پر انہوں نے وہ جو پیسے تھے وہ (چندہ میں ) دے دیئے اور کہہ دیا کہ صابن کا انتظام اللہ تعالیٰ آپ ہی کر دے گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھی ایسا انتظام کیا کہ دو دن کے بعد اُن کے ہاں ایک مہمان آیا اور صابن کا پورا کارٹن اُن کو تحفہ دے گیا۔اسی طرح بین کی ایک خاتون جو بڑی چُھپ کے نیکیاں بجالانے والی ہیں اور دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔اُن کا چندہ بھی خاصا معیاری تھا مگر پھر بھی سال کے اختتام پر ان سے جب رابطہ کیا گیا تو وہ سنتے ہی اپنے اوپر خدا کے فضلوں کو گنے لگیں اور اپنی طرف سے مزید ایک لاکھ فرانک سیفا چندہ دے دیا۔اس دوران جب اُنہیں بتایا گیا کہ ان کے فلاں بیٹے کی طرف سے بھی چندے کا انتظار ہے تو فوراً اُس کی طرف سے بھی تیس ہزار ادا کر دیئے۔بیٹی کا علم ہوا تو اُن کی طرف سے بھی خود ہی دینے لگیں۔اسی طرح جب اُن کو بتایا گیا کہ آپ کی ایک بیٹی کا معمولی چندہ باقی ہے تو وہ بھی اُنہوں نے ادا کر دیا۔تو اس طرح کے لوگ بھی ہیں جو اپنی تمام خواہشات کو ختم کر کے چندوں کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اُس کی ادائیگی کرتے ہیں۔