خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 165
خطبات مسرور جلد 12 165 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 مارچ 2014 ء ہے تو وہی دن نئی پیدائش کا پہلا دن ہوتا ہے اور وہی ساعت نئے عالم کی پہلی ساعت ہوتی ہے“۔پھر آپ فرماتے ہیں : سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 281) ” خدا ایک موتی ہے اس کی معرفت کے بعد انسان دنیاوی اشیاء کو ایسی حقارت اور ذلت سے دیکھتا ہے کہ ان کے دیکھنے کے لئے بھی اسے طبیعت پر ایک جبر اور اکراہ کرنا پڑتا ہے۔پس خدا تعالیٰ کی معرفت چاہو اور اس کی طرف ہی قدم اٹھاؤ کہ کامیابی اسی میں ہے“۔،، ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 145) فرماتے ہیں: ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا تقویٰ ، ایمان، عبادت ، طہارت سب کچھ آسمان سے آتا ہے۔اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے وہ چاہے تو اس کو قائم رکھے اور چاہے تو دُور کر دے۔پس سچی معرفت اسی کا نام ہے کہ انسان اپنے نفس کو مسلوب اور لاشے محض سمجھے اور آستانہ الوہیت پر گر کر انکسار اور عجز کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل کو طلب کرے اور اس نور معرفت کو مانگے جو جذبات نفس کو جلا دیتا ہے اور اندر ایک روشنی اور نیکیوں کے لیے قوت اور حرارت پیدا کرتا ہے۔پھر اگر اس کے فضل سے اس کو حصہ مل جاوے اور کسی وقت کسی قسم کا بسط اور شرح صدر حاصل ہو جاوے تو اس پر تکبر اور ناز نہ کرے بلکہ اس کی فروتنی اور انکسار میں اور بھی ترقی ہو کیونکہ جس قدر وہ اپنے آپ کو لاشئے سمجھے گا اسی قدر کیفیات اور انوار خدا تعالیٰ سے اتریں گے جو اس کو روشنی اور قوت پہنچائیں گے۔اگر انسان یہ عقیدہ رکھے گا تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی اخلاقی حالت عمدہ ہو جائے گی۔دنیا میں اپنے آپ کو کچھ سمجھنا بھی تکبر ہے اور یہی حالت بنا دیتا ہے۔پھر انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ دوسرے پر لعنت کرتا ہے اور اُسے حقیر سمجھتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : ”میں یہ سب باتیں بار بار اس لیے کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے جو اس جماعت کو بنانا چاہا ہے تو اس سے یہی غرض رکھی ہے کہ وہ حقیقی معرفت جو دنیا میں گم ہو چکی ہے اور وہ حقیقی تقویٰ و طہارت جو اس زمانہ میں پائی نہیں جاتی اسے دوبارہ قائم کرے“۔پھر آپ مزید اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 278-277) اس وقت بھی چونکہ دنیا می فسق و فجور بہت بڑھ گیا ہے اور خدا شنای اور غداری کی راہیں نظر نہیں آتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے اور محض اپنے فضل وکرم سے اس نے مجھ کو معوث کیا