خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 164 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 164

خطبات مسرور جلد 12 164 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 مارچ 2014 ء تاریکی کا اسے لگا ہی رہتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی طرف ذراسی حرکت کرو گے تو وہ اس سے زیادہ تمہاری طرف حرکت کرے گا۔لیکن اول تمہاری طرف سے حرکت کا ہونا ضروری ہے۔یہ خام خیالی ہے کہ بلا حرکت کئے اس سے کسی قسم کی توقع رکھی جاوے۔یہ سنت اللہ اسی طریق سے جاری ہے کہ ابتدا میں انسان سے ایک فعل صادر ہوتا ہے پھر اس پر خدا تعالیٰ کا ایک فعل نتیجہ ظاہر ہوتا ہے۔اگر ایک شخص اپنے مکان کے گل دروازے بند کر دے گا تو یہ بند کرنا اس کا فعل ہو گا۔خدا تعالیٰ کا فعل اس پر یہ ظاہر ہوگا کہ اس مکان میں اندھیرا ہو جاوے گالیکن انسان کو اس کو چہ میں پڑ کر صبر سے کام لینا چاہئے۔66 بعض لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ہم نے سب نیکیاں کیں، نماز بھی پڑھی ، روزے بھی رکھے، صدقہ خیرات بھی دیا، مجاہدہ بھی کیا مگر ہمیں وصول کچھ نہیں ہوا۔تو ایسے لوگ شقی از لی ہوتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی ربوبیت پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ انہوں نے سب اعمال خدا تعالیٰ کے لیے کئے ہوتے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کے لیے کوئی فعل کیا جاوے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ضائع ہو اور خدا تعالیٰ اس کا اجر اسی زندگی میں نہ دیوے۔اسی وجہ سے اکثر لوگ شکوک و شبہات میں رہتے ہیں اور ان کو خدا تعالیٰ کی ہستی کا کوئی پتہ نہیں لگتا کہ ہے بھی کہ نہیں۔ایک پارچہ سلا ہوا ہو تو انسان جان لیتا ہے ( کپڑ اسلا ہوا ہو تو انسان جان لیتا ہے ) ” کہ اس کے سینے والا ضرور کوئی ہے۔ایک گھڑی ہے وقت دیتی ہے۔اگر جنگل میں بھی انسان کومل جاوے تو وہ خیال کرے گا کہ اس کا بنانے والا ضرور ہے۔پس اسی طرح خدا تعالیٰ کے افعال کو دیکھو کہ اس نے کس کس قسم کی گھڑیاں بنا رکھی ہیں اور کیسے کیسے عجائبات قدرت ہیں۔ایک طرف تو اس کی ہستی کے عقلی دلائل ہیں۔ایک طرف نشانات ہیں۔وہ انسان کو منوا دیتے ہیں کہ ایک عظیم لشان قدرتوں والا خدا موجود ہے۔وہ پہلے اپنے برگزیدہ پر اپنا ارادہ ظاہر فرماتا ہے اور یہی بھاری شے ہے جو انبیاء لاتے ہیں اور جس کا نام پیشگوئی ہے“۔پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 230-229) ”مذہب کی جڑھ خداشناسی اور معرفت نعمائے الہی ہے اور اس کی شاخیں اعمال صالحہ اور اس کے پھول اخلاق فاضلہ ہیں اور اس کا پھل برکات روحانیہ اور نہایت لطیف محبت ہے جورب اور اس کے بندہ میں پیدا ہو جاتی ہے۔اور اس پھل سے متمتع ہونا روحانی تقدس و پاکیزگی کا مثمر ہے۔۔۔۔۔کمالیت محبت، کمالیت معرفت سے پیدا ہوتی ہے اور عشق الہی بقدر معرفت جوش مارتا ہے اور جب محبت ذاتیہ پیدا ہو جاتی