خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 11
خطبات مسرور جلد 12 11 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جنوری 2014ء جمعہ کو ہوتا ہے اور گزشتہ سال میں اللہ تعالیٰ کے جو فضل ہوئے ہیں، جو وقف جدید کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے کئے اور کر رہا ہے، اُن کا ذکر بھی ہوتا ہے۔کچھ کا تو میں نے ذکر کیا ہے۔افریقہ میں وقف جدید کے چندے کا بہت سا استعمال ہوتا ہے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس چندے کی رقم بھی وہاں تبلیغی میدان میں آگے بڑھنے کا، مسجدیں بنانے کا اور دوسری چیزیں کرنے کا ایک ذریعہ بن رہی ہے۔پس اب میں اس ضمن میں مزید میں کچھ کہوں گا۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ وقف جدید کی تحریک پہلے صرف پاکستان میں ہوتی تھی اور خلافت رابعہ کے وقت میں پاکستان سے باہر کی جماعتوں میں یہ تحریک کی گئی۔حضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ نے کی تا کہ افریقہ اور بھارت میں جماعت کے کاموں کو مزید وسعت دی جائے۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں افریقہ اور بھارت میں مساجد اور مشن ہاؤسز کی تعمیر ہوئی اور کچھ خریدے بھی گئے ہیں، اس کے علاوہ تبلیغی سرگرمیاں ہیں جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں سعید روحوں کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو قبول کرنے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی۔بیشک ان ممالک میں رہنے والے احمدی بھی اپنی اپنی بساط کے مطابق غیر معمولی طور پر مالی قربانیاں کر رہے ہیں لیکن اُن کی غربت کی وجہ سے وہ اتنی زیادہ قربانی نہیں کر سکتے کہ تمام اخراجات پورے کر سکیں۔اس لئے امیر ملکوں کا جو چندہ وقف جدید ہے، یہ خاص طور پر افریقہ اور بھارت میں خرچ کیا جاتا ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ ان ملکوں کے لوگ بھی ایک جذبے کے تحت چندے دیتے ہیں۔ہمارے گنی کنا کری کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک احمدی نوجوان محمد ساکو نے بتایا کہ میری شادی کی تاریخ طے ہو گئی تھی اور گھر میں اتنی رقم نہیں تھی کہ شادی کی تیاریاں کی جاسکیں اور جہاں سے رقم آنے کی امید تھی ، وہاں سے مسلسل مایوسی ہورہی تھی۔اس دوران چندوں کا مطالبہ ہوا تو جور تم گھر میں موجود تھی وہ چندے میں ادا کر دی۔اس پر اس کی منگیتر نے بڑا شور مچایا کہ یہ تم نے کیا کیا۔جو معمولی رقم تھی وہ چندے میں دے دی۔تو یہ نوجوان کہتے ہیں کہ میں نے اُسے کہا کہ خدا کے فضل سے میں ایک ایماندار شخص ہوں اور خدا پر یقین رکھنے والا شخص ہوں اس لئے گھبراؤ نہیں ، اللہ تعالیٰ خود ہماری مددفر مادے گا اور خدا کی راہ میں دیا ہوا کبھی ضائع نہیں ہوتا۔کہتے ہیں کہ اگلے روز ہی جب وہ کام پر گئے تو اُن کو وہ ساری رقم مل گئی جو ایک لمبے عرصے سے رُکی ہوئی تھی۔اور جب شام کو گھر لا کر انہوں نے دی تو لوگ حیران رہ گئے کہ کس طرح (اتنی ) جلدی اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔پھر قربانی کے بھی یہ لوگ کیسے کیسے ذریعے اختیار کرتے ہیں۔بینن سے ہمارے مبلغ لکھتے ہیں کہ