خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 163
خطبات مسرور جلد 12 163 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 مارچ 2014 ء بڑا قادر ہے وہ ذُو الْعَذَابِ الشَّدِيدِ ہے۔یہی ایک نسخہ ہے جو انسان کی متمردانہ زندگی پر (سرکش زندگی پر ایک بھسم کرنے والی بجلی گراتا ہے"۔(ایسی بجلی گراتا ہے جو اس کو جلا کر خاک کر دیتی ہے۔) پس جب تک انسان آمَنْتُ بِاللہ کی حدود سے نکل کر عرفت اللہ کی منزل میں قدم نہیں رکھتا (اللہ پر ایمان لانے کی حد سے نکل کر اس کی پہچان اور معرفت حاصل کرنے کی منزل پر قدم نہیں رکھتا ) اس کا گناہوں سے بچنا محال ہے۔( بہت مشکل ہے کہ گناہوں سے بچا جائے۔) ” اور یہ بات کہ ہم خدا کی معرفت اور اس کی صفات پر یقین لانے سے گناہوں سے کیونکر بچ جائیں گے ایک ایسی صداقت ہے جس کو ہم جھٹلا نہیں سکتے۔ہمارا روزانہ تجربہ اس امر کی دلیل ہے کہ جس سے انسان سے ڈرتا ہے اس کے نزدیک نہیں جاتا۔مثلاً جب کہ یہ علم ہو کہ سانپ ڈس لیتا ہے اور اس کا ڈسا ہوا ہلاک ہو جاتا ہے تو کون دانشمند ہے جو اس کے منہ میں اپنا ہاتھ دینا تو در کنار کبھی ایسے سوٹے کے نزدیک جانا بھی پسند کرے جس سے کوئی زہریلا سانپ مارا گیا ہو۔اسے خیال ہوتا ہے کہ کہیں اس کے زہر کا اثر اس میں باقی نہ ہو“۔(یعنی سوٹے میں بھی زہر کا اثر نہ لگا ہو۔''اگر کسی کو معلوم ہو جائے کہ فلاں جنگل میں شیر ہے تو ممکن نہیں کہ وہ اس میں سفر کر سکے یا کم از کم تنہا جاسکے۔بچوں تک میں یہ مادہ اور شعور موجود ہے کہ جس چیز کے خطرناک ہونے کا ان کو یقین دلایا گیا ہے وہ اس سے ڈرتے ہیں۔پس جب تک انسان میں خدا کی معرفت اور گناہوں کے زہر کا یقین پیدا نہ ہو کوئی اور طریق خواہ کسی کی خود کشی ہو یا قربانی کا خون نجات نہیں دے سکتا اور گناہ کی زندگی پر موت وارد نہیں کر سکتا۔یقیناً یا درکھو کہ گناہوں کا سیلاب اور نفسانی جذبات کا دریا بجز اس کے رک ہی نہیں سکتا کہ ایک چمکتا ہوا یقین اس کو حاصل ہو کہ خدا ہے اور اس کی تلوار ہے جو ہر ایک نافرمان پر بجلی کی طرح گرتی ہے۔جب تک یہ پیدا نہ ہو گناہ سے بچ نہیں سکتا اگر کوئی کہے کہ ہم خدا پر ایمان لاتے ہیں اور اس بات پر بھی ایمان لاتے کہ وہ نافرمانوں کو سزا دیتا ہے مگر گناہ ہم سے دور نہیں ہوتے۔میں جواب میں یہی کہوں گا کہ یہ جھوٹ ہے اور نفس کا مغالطہ ہے۔بچے ایمان اور نیچے یقین اور گناہ میں با ہم عداوت ہے۔جہاں کچی معرفت اور چمکتا ہوا یقین خدا پر ہو وہاں ممکن نہیں کہ گناہ رہے“۔پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 5-4) خداشناسی کی طرف قدم جلد اٹھانا چاہئے۔خدا تعالیٰ کا مزا اسے آتا ہے جو اسے شناخت کرے اور جو اس کی طرف صدق و وفا سے قدم نہیں اُٹھاتا اس کی دعا کھلے طور پر قبول نہیں ہوتی اور کوئی نہ کوئی حصہ