خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 162 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 162

خطبات مسرور جلد 12 162 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 مارچ 2014 ء اور تم کو اس کا علم نہ ہو کہ یہ شیر ہے بلکہ یہ خیال ہو کہ یہ ایک بکرا ہے تو تمہیں کچھ بھی اس کا خوف نہیں ہو گا اور جبھی کہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ یہ تو شیر ہے تو تم بے حواس ہو کر اس جگہ سے بھاگ جاؤ گے۔ایسا ہی اگر تم ایک ہیرے کو جو ایک جنگل میں پڑا ہوا ہے جو کئی لاکھ روپیہ قیمت رکھتا ہے محض ایک پتھر کا ٹکڑا سمجھو گے تو اس کی تم کچھ بھی پروا نہیں کرو گے۔لیکن اگر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ اس شان اور عظمت کا ہیرا ہے تب تو تم اس کی محبت میں دیوانہ ہو جاؤ گے اور جہاں تک تم سے ممکن ہو گا اس کے حاصل کرنے کے لئے کوشش کرو گے۔پس معلوم ہوا کہ تمام محبت اور خوف معرفت پر موقوف ہے۔انسان اس سوراخ میں ہاتھ نہیں ڈال سکتا جس کی نسبت اس کو معلوم ہو جائے کہ اس کے اندر ایک زہریلا سانپ ہے اور نہ اس مکان کو چھوڑ سکتا ہے جس کی نسبت اس کو یقین ہو جائے کہ اس کے نیچے ایک بڑا بھاری خزانہ مدفون ہے۔اب چونکہ تمام مدار خوف اور محبت کا معرفت پر ہے اس لئے خدا تعالیٰ کی طرف بھی پورے طور پر اس وقت انسان جھک سکتا ہے جب کہ اس کی معرفت ہو“۔(جب اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت ہو گی تب ہی اس کی محبت بھی دل میں پیدا ہو گی ، تب ہی اس کا خوف بھی دل میں پیدا ہو گا۔فرمایا: ” اول اس کے وجود کا پتہ لگے اور پھر اس کی خوبیاں اور اس کی کامل قدرتیں ظاہر ہوں اور اس قسم کی معرفت کب میسر آسکتی ہے بجز اس کے کہ کسی کو خدا تعالیٰ کا شرف مکالمہ اور مخاطبہ حاصل ہو اور پھر اعلام الہی سے اس بات پر یقین آجائے کہ وہ عالم الغیب ہے اور ایسا قادر ہے کہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔سو اصلی نعمت (جس پر قوت ایمان اور اعمال صالحہ موقوف ہیں۔“ { ایمان اور اعمال صالحہ کا جس پر انحصار ہے } خدا تعالیٰ کا مکالمہ اور مخاطبہ ہے جس کے ذریعہ سے اول اس کا پتہ لگتا ہے اور پھر اس کی قدرتوں سے اطلاع ملتی ہے اور پھر اس اطلاع کے موافق انسان ان قدرتوں کو بچشم خود دیکھ لیتا ہے۔یہی وہ نعمت ہے جو انبیاء علیہم السلام کو دی گئی تھی اور پھر اس امت کو حکم ہوا کہ اس نعمت کو تم مجھ سے مانگو کہ میں تمہیں بھی دوں گا۔پس جس کے دل میں یہ پیاس لگا دی گئی ہے کہ اس نعمت کو پاوے بیشک اس کو وہ نعمت ملے گی“۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 307 تا 309) پھر نیکیوں کے بجالانے اور برائیوں سے روکنے کے لئے معرفت الہی کے حصول پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : تمام سعادت مندیوں کا مدار خدا شناسی پر ہے اور نفسانی جذبات اور شیطانی محرکات سے روکنے والی صرف ایک ہی چیز ہے جو خدا کی معرفت کا ملہ کہلاتی ہے جس سے پتہ لگ جاتا ہے کہ خدا ہے۔وہ