خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 155 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 155

خطبات مسرور جلد 12 155 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 مارچ 2014 ء سمجھنے مشکل بھی ہو سکتے ہیں۔بہر حال خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے طریق کی رہنمائی کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :۔انسان خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے لئے دو چیزوں کا محتاج ہے۔اول بدی سے پر ہیز کرنا۔دوم نیکی کے اعمال کو حاصل کرنا۔اور محض بدی کو چھوڑ نا کوئی ہنر نہیں ہے۔پس اصل بات یہ ہے کہ جب سے انسان پیدا ہوا ہے یہ دونوں قو تیں اس کی فطرت کے اندر موجود ہیں۔ایک طرف تو جذبات نفسانی اس کو گناہ کی طرف مائل کرتے ہیں اور دوسری طرف محبت الہی کی آگ جو اس کی فطرت کے اندر مخفی ہے وہ اس گناہ کے خس و خاشاک کو اس طرح پر جلا دیتی ہے جیسا کہ ظاہری آگ ظاہری خس و خاشاک کو جلاتی ہے۔مگر اس روحانی آگ کا افروختہ ہونا جو گناہوں کو جلاتی ہے (یعنی اس کا بھڑکا یا جانا جو گناہوں کو جلاتی ہے) معرفت الہی پر موقوف ہے“۔(معرفت الہی ہو گی تو تب ہی یہ جل سکتی ہے اسی پر اس کا انحصار ہے) کیونکہ ہر ایک چیز کی محبت اور عشق اس کی معرفت سے وابستہ ہے۔جس چیز کے حسن اور خوبی کا تمہیں علم نہیں تم اس پر عاشق نہیں ہو سکتے۔پس خدائے عز وجل کی خوبی اور حسن و جمال کی معرفت اس کی محبت پیدا کرتی ہے اور محبت کی آگ سے گناہ جلتے ہیں۔مگر سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ وہ معرفت عام لوگوں کو نبیوں کی معرفت ملتی ہے اور ان کی روشنی سے وہ روشنی حاصل کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو دیا گیا وہ ان کی پیروی سے سب کچھ پالیتے ہیں۔“ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 62) پھر آپ نے یہ بھی واضح فرمایا کہ میں نے تمام مذاہب کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے ( جائزہ لیا ہے ) اور اس کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس وقت اسلام ہی ہے جو خدا تعالیٰ کی حقیقی معرفت ہر زمانے میں پیدا کر سکتا ہے کیونکہ یہی ایک ایسا مذہب ہے جس کا نبی بھی زندہ ہے۔جس کی تعلیم زندہ ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور پیروی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا کلام بھی اتر سکتا ہے اور انوارالہی کے دروازے بھی کھل سکتے ہیں اور ان سے تم فیض پاسکتے ہو۔(ماخوذ از حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 63 تا65) پھر اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ اسلام کی حقیقت اور معرفت الہی کا ایک تعلق ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ:۔در علم اور معرفت کو خدا تعالیٰ نے حقیقت اسلامیہ کے حصول کا ذریعہ ٹھہرایا ہے اور اگر چہ حصول