خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 139 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 139

خطبات مسرور جلد 12 139 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 مارچ 2014ء بہر حال ہر سطح پر میڈیا تک ہماری رسائی ہونی چاہئے تا کہ اس تعارف کے ساتھ جو جماعت احمدیہ کا تعارف ہے، اسلام کی خوبصورت تعلیم دنیا کو پتا لگے اور تبلیغ میں تیزی آئے۔یہ بھی تبلیغ کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔اس طرف جماعتوں کو تو جہ دینے کی ضرورت ہے۔اب میں اس کی کارروائی کے بارے میں مختصراً بیان کرتا ہوں۔بعض مقررین نے بڑی اچھی باتیں بھی کیں۔اللہ کرے جو کچھ انہوں نے کہا وہ اُن کے دل کی آواز ہوا اور اس پر عمل بھی کریں۔پہلے ایک ہندو کونسل جو یہاں ہے اُس کے چیئر مین ہمیش چندر شر ما صاحب ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ آج کا عنوان بہت دلچسپ ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ اس کائنات میں خدا کا وجود ہے۔دوسری بات جو بڑی واضح ہے وہ یہ ہے کہ سیاسی لیڈر اور دیگر نظام دنیا میں امن قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ہر طرف جھگڑے اور فساد بر پا ہیں اور عوام کا سیاستدانوں سے اعتماد اُٹھ گیا ہے۔اسی لئے میرے خیال میں وقت آ گیا ہے کہ ہم انسانیت کی بہتری کے لئے دوبارہ مذہب کی طرف رُخ کریں، ہمیں اپنے مذہب کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنا ہوگا۔اور پھر یہ کہتے ہیں کہ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو صرف نصیحتیں ہی نہ کرتے چلے جائیں بلکہ اپنے نمونے بھی پیش کرنے والے ہوں۔اور یہی حقیقت ہے۔اللہ کرے کہ یہ مقرر بھی جو کچھ انہوں نے کہا اُس پر عمل کرنے والے ہوں۔پھر دلائی لامہ کا پیغام، بدھ مت کے رہنما جو یہاں لندن میں ہیں، انہوں نے اُن کی نمائندگی میں پڑھا۔وہ کہتے ہیں کہ تمام مذاہب اپنے پیروکاروں کو باہم محبت، رواداری اور صبر وسکون کا درس دیتے ہیں۔اس لئے خواہ اُن کے عقائد ہمارے عقائد سے مختلف ہی کیوں نہ ہوں ہمیں اُن کی عزت کرنی چاہئے۔ہر سچے مذہب نے اپنے اپنے وقت میں انسانیت کو اعلیٰ اقدار سے نوازا ہے۔آئندہ زمانے میں بھی یہی مذہبی قدریں ہمیں دنیا میں امن، ہم آہنگی اور مفاہمت پیدا کرنے اور ایک دوسرے کے شانہ بشانہ زندگی گزارنے کے لئے مشعل راہ ثابت ہوں گی۔ہم سب پر واجب ہے کہ خلوص نیت کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں اُن اعلیٰ اخلاق پر کار بند ہو جائیں جن کی تعلیم ہمارا مذہب ہمیں دیتا ہے۔بہر حال یہ باتیں اُن کی بڑی صحیح ہیں۔کہتے ہیں کہ مذہب کے نام پر فساد تب بر پا ہوتا ہے جب لوگ مذہب کی اصل غرض و غایت کو سمجھ نہیں پاتے۔کہتے ہیں، کچھ وقت سے مجھے خیال آرہا تھا کہ ہمیں مل کر ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن