خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 138
خطبات مسرور جلد 12 138 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 مارچ 2014ء تعارف تھا۔اصل مقصد یہ ہے کہ جو تقریب منعقد ہوئی اُس کے بارے میں کچھ بتاؤں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ ایم ٹی اے پر دکھائی جاچکی ہے۔اور اردو میں بھی مقررین اور میرے خطاب کا ترجمہ امید ہے آ گیا ہوگا ، میں نے دیکھا تو نہیں۔لیکن پاکستان سے مجھے یہ مطالبہ آیا کہ بہتر ہو گا کہ اس بڑے فنکشن کی تفصیل یا اس کے بارے میں کچھ حد تک ذکر میں اپنے خطبے میں کروں، جس طرح اپنے دوروں کے بارے میں بھی بیان کرتا ہوں تا کہ سننے والے بہتر سمجھ سکیں اور زیادہ اُن کو اس کی اہمیت کا زیادہ اندازہ بھی ہو اور فائدہ بھی اٹھا سکیں۔ایم ٹی اے پر بعض پروگرام بعض لوگ دیکھتے بھی نہیں۔یہاں بھی کل ہی میں دیکھ رہا تھا ایک خط میں ذکر تھا کہ میں نے فلاں اخبار میں اس تقریب کی کارروائی پڑھی حالانکہ ایم ٹی اے پر آچکی تھی۔خطبے بہر حال لوگ زیادہ بہتر سنتے ہیں، اس لئے میں اس کا مختصر اذکر کروں گا لیکن بہتر یہی ہے کہ اس کو جب بھی ایم ٹی اے پر آئے ، احمدیوں کو دیکھنا چاہئے۔ایک اچھی بھر پور قسم کی تقریب تھی۔اس وقت میں مختصراً مقررین کے چند فقرات پیش کروں گا۔اور جو میں نے کہا، اُس کا خلاصہ آپ کو بتاؤں گا۔اور اس کے علاوہ مہمانوں کے ، لوگوں کے، غیروں کے جو تاثرات تھے ، وہ بھی بتاؤں گا تا کہ اللہ تعالیٰ کی تائیدات اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا جس سے اظہار ہوتا ہے، وہ سامنے آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برتری ، اسلام کی برتری جو آپ کے عاشق صادق کے ذریعہ دنیا پہ ظاہر ہو رہی ہے اُس کا دنیا کو پتا لگے ہمیں پتا لگے۔اس فنکشن کے ضمن میں میں پہلی بات یہ بھی کہوں گا اس سے پہلے کہ باقی تفصیلات بیان کروں کہ یو کے جماعت کی انتظامیہ جنہوں نے اتنا بڑا اور اہم فنکشن کیا، اُن کو جس طرح اس فنکشن سے پہلے فنکشن کی تشہیر کرنی چاہئے تھی اس طرح نہیں کی اور اس بات پر خوش ہو گئے کہ ہم فنکشن کر رہے ہیں اور اتنے لوگ آئیں گے۔حالانکہ یہ موقع تھا کہ جماعت کے وسیع پیمانے پر تعارف اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کے پر چار کا زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بتایا جاتا۔اگر پریس سے صحیح رابطہ ہوتا تو جو کوشش اب امیر صاحب اور اُن کی ٹیم کر رہی ہے، خبریں لگوا رہے ہیں، یہ خود بخود لگتیں اور اس سے بہتر طریق پر لگتیں۔آجکل تو پریس پیغام پہنچانے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔اس بارے میں دنیا کے اکثر ممالک کی جماعتوں میں جس طرح کام ہونا چاہئے تھا، وہ نہیں ہو رہا اور کمزوری دکھائی جاتی ہے۔اب امریکہ میں کچھ عرصے سے کچھ بہتری پیدا ہوئی ہے، اللہ کے فضل سے اچھا کام کر رہے ہیں۔افریقہ میں گھانا اور سیرالیون میں اس بارے میں اچھا کام ہو رہا ہے۔اور بعض افریقن فرانکوفون ممالک جو ہیں اُن میں بھی اس طرف توجہ ہوئی ہے۔