خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 117
خطبات مسرور جلد 12 117 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 فروری 2014ء سامعین میں علمی طبقہ کے ہر خیال کے اصحاب شامل تھے۔لالہ کنورسین صاحب سابق چیف جسٹس کشمیر جو جناب لالہ بھیم سین صاحب کے فرزند ارجمند تھے وہ بھی وہاں موجود تھے۔انہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی تقریر اور صدر صاحب کی تقریر کے بعد اپنے شکر گزاری کے جذبات کا اظہار کیا، انگلش میں ایک تقریر کی۔کہتے ہیں کہ آج قابل لیکچر رنے زبان عربی کی فضیلت پر جو دلچسپ اور معرکۃ الآراء تقریر کی ہے اُسے سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔کہتے ہیں کہ جب میں لیکچر سننے کے لئے آیا اُس وقت میں نے خیال کیا تھا کہ مضمون اس رنگ میں بیان کیا جائے گا جس طرح پرانی طرز کے لوگ بیان کرتے ہیں۔وہ کس طرح بیان کرتے ہیں؟ کہتے ہیں کہ مشہور ہے کہ کسی عرب سے ایک دفعہ زبان عربی کی فضیلت کی وجہ دریافت کی گئی تو اُس نے کہا کہ اُسے یعنی عربی زبان کو تین وجہ سے فضیلت حاصل ہے۔پہلی وجہ : اس لئے کہ میں عرب کا رہنے والا ہوں۔دوسرے اس لئے کہ یہ قرآن مجید کی زبان ہے۔تیسرے اس لئے کہ جنت میں عربی بولی جائے گی۔کہتے ہیں میں سمجھتا تھا کہ شاید اس قسم کی باتیں زبان عربی کی فضیلت میں پیش کی جائیں گی۔مگر جو لیکچر دیا گیا وہ نہایت ہی عالمانہ اور فلسفیانہ شان اپنے اندر رکھتا ہے۔میں جناب مرزا صاحب کو یقین دلاتا ہوں کہ میں نے ان کے لیکچر کے ایک ایک حرف کو پوری توجہ اور کامل غور کے ساتھ سنا ہے اور میں نے اس سے بہت ہی حظ اُٹھایا اور فائدہ حاصل کیا ہے۔مجھے امید ہے کہ اس لیکچر کا اثر مدتوں میرے دل پر قائم رہے گا۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 6 صفحہ 180 - 181 مطبوعہ ربوہ ) پھر سید عبد القادر صاحب ایم۔اے وائس پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور کے تاثرات ہیں۔یہ صدر شعبہ تاریخ تھے۔اسلامیہ کالج نے اسلام اور اشتراکیت (Islam and Communism) کے عنوان پر اخبار ”سن رائز لا ہور (24 مارچ 1945ء) میں ایک نوٹ دیا جس کا ایک حصہ درج کیا جاتا ہے۔کہتے ہیں کہ اسلام کا اقتصادی نظام اور کمیونزم کے موضوع پر (حضرت) مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کا لیکچر سنے کا مجھے بھی فخر حاصل ہوا۔یہ لیکچر بھی آپ کے دوسرے لیکچروں کی طرح جو مجھے سننے کا اتفاق ہوا ہے، عالمانہ، خیالات میں جلا پیدا کر دینے والا اور پر از معلومات تھا۔مرزا صاحب خدا داد قابلیت کے مالک ہیں اور اس موضوع کے ہر پہلو پر آپ کو پورا پورا عبور حاصل ہے۔اس وجہ سے آپ کے خیالات اس بات کے مستحق ہیں کہ ہم ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ان پر توجہ کریں“۔تاریخ احمدیت جلد 9 صفحہ 626 مطبوعہ ربوہ)