خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 116
خطبات مسرور جلد 12 116 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 فروری 2014ء سلسلہ کے خلیفہ ثانی ہیں بیان فرمائے۔اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ترجمہ اور یہ تفسیر جماعت احمدیہ کے فہم قرآن کی صحیح ترجمانی کرنے والی ہے“۔( تاریخ احمدیت جلد 9 صفحہ 862 -863 مطبوعہ ربوہ ) پھر صرف یہی نہیں بلکہ اور بھی ، عربوں میں سے بھی ہیں۔شام کے ایک ڈاکٹر انس صاحب ہیں، وہ کہتے ہیں: حق اور نور کی تلاش میں مختلف علماء کی کتب اور تفاسیر پڑھیں جن میں سلطان العارفین بجی الدین ابن عربی اور محمد بن علی الحاتمی الطائی وغیرہ کی تفاسیر شامل تھیں لیکن کسی تفسیر میں وہ خوبی اور چاشنی اور لذت نہ پائی جو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کی تفسیر میں ملی۔میں اپنی روح اور جسم کے ساتھ پیش آنے والے کشوف وغیرہ کی تفسیر کا متلاشی تھا۔پھر جب جماعت کی ویب سائٹ پر موجود تفسیر کبیر کا مطالعہ کیا تو اس میں احمدی نور اور سچائی اور صداقت نظر آئی جس نے میرے دل کو موہ لیا۔پھر مراکش کے جمال صاحب ہیں۔ان کی طویل خط و کتابت حضرت خلیفہ المسیح الرابع سے چلتی رہی تھی۔کہتے ہیں اس عرصے میں جو خط و کتابت کا عرصہ تھا مجھے مرکز سے تفسیر کبیر جلد اول کے ترجمہ کا تحفہ ارسال کیا گیا۔میں نے جب اس تفسیر کو پڑھا اور اس کا دیگر تفاسیر سے موازنہ کیا تو زمین و آسمان کا فرق نکلا۔یہاں الہی علوم اور حکمتوں کی کنہ کا بیان تھا اور شریعت کے مغز کا خلاصہ تھا جبکہ دیگر تفاسیر میں محض چھلکے پر اکتفا کیا گیا تھا۔اس تفسیر کے مطالعہ نے میرے دل میں اسلام کی ایسی حسین تصویر پیش کی کہ جو روح تک اترتی چلی گئی۔پھر حضرت مصلح موعود کے لیکچروں کا غیروں پر اثر آپ کے گہرے علم کا اعتراف ہے۔اس کی چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔سیدنا حضرت مصلح موعود نے پنجاب لٹریری کی تحریک پر جس کے لیڈر جو تھے پنجاب یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے تھے، لاہور میں دو لیکچر دینے منظور فرمائے۔اس کے مطابق حضور کا پہلا لیکچر ”عربی زبان کا مقام السنہ عالم میں کہ عربی زبان کا مقام دنیا کی زبانوں میں کیا تھا، کے موضوع پر 31 رمئی 1934 ء کو وائی ایم سی اے ہال میں جو مال روڈ پر لاہور میں تھا، شروع ہوا۔اور اس کی صدارت جناب ڈاکٹر برکت علی صاحب قریشی ایم۔اے پی ایچ ڈی پرنسپل اسلامیہ کالج نے کی۔حضور کا لیکچر ڈیڑھ گھنٹے جاری رہا جسے سامعین نے ہمہ تن گوش ہو کر سنا۔اختتام پر جناب صدر نے شکر یہ ادا کرنے کے بعد حاضرین کو لیکچر سے فائدہ اُٹھانے کی طرف توجہ دلائی اور خواہش ظاہر کی کہ ایسے علمی مضامین پھر بھی سننے کا موقع ملا۔