خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 4 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 4

خطبات مسرور جلد 12 4 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جنوری 2014ء کے فضل سے یہ کام کر رہے ہیں۔اور اس کے علاوہ جب مختلف ممالک میں میرے دورے ہوتے ہیں تو اُن کے ذریعہ سے بھی ایک حد تک جماعت کا تعارف ہوتا ہے۔اسلام کی تعلیم کا دنیا کو پتہ چلتا ہے اور پھر اس تعارف کو بڑھاتے ہوئے جو مبلغین ہیں، ان میں بعض تو ایسے ہیں جو مستقل ملکی اخباروں میں کالم لکھتے ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جو میرے خطبات کے حوالے سے اخباروں میں اسلام کی تعلیم کے بارے میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔تو یہ پیغام بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھیل رہا ہے اور گزشتہ سال میں اس کو بہت زیادہ وسعت ملی ہے۔دورے کی میں نے بات کی ہے۔پہلے دوروں کے بعد میں بتا بھی چکا ہوں کہ امریکہ میں جو میں نے پچھلے سال دورے کئے اُس میں مجموعی طور پر بارہ ملین سے زیادہ لوگوں تک پیغام پہنچا۔کینیڈا کے دورے میں دو شہروں کے دورے کئے اور ساڑھے آٹھ ملین لوگوں تک پیغام پہنچا۔ان دونوں ممالک میں اس طرح مجموعی طور پر تقریباً دو کروڑ افراد تک پیغام پہنچا ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس لحاظ سے بھی بے شمار فضل ہیں کہ احمدیت کا پیغام پہنچانے کے نئے سے نئے راستے کھل رہے ہیں۔میرے دوروں کے ذریعہ جیسا کہ میں نے کہا کہ پیغام پہنچانے کے نئے راستے کھلے ہیں اور انہیں پھر مبلغین نے مزید وسعت دی ہے۔جو active مبلغ ہیں اُن کو ایک لگن ہے، وہ پھر اس کام کو آگے بڑھاتے ہیں اور اس میں پھر اُن کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی کامیابیاں بھی مل رہی ہیں۔اسی طرح جرمنی کے دوروں کے دوران ، گزشتہ سال میں نے شاید دو دورے کئے تھے ،مساجد کے سنگ بنیاد رکھے اور جلسے میں شامل ہوا تھا تو وہاں اخباروں اور ریڈیو سٹیشنز اور ٹی وی چینلز نے جو کوریج دی ہے وہ صرف جرمنی تک ہی نہیں، بلکہ اُس میں آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ کے مشترکہ ٹی وی چینل بھی تھے۔اور اس طرح مجموعی طور پر جو جرمنی کے سفر ہوئے ان میں چار ملین افراد تک پیغام پہنچا۔پھر سنگا پور ہے، آسٹریلیا ہے، نیوزی لینڈ ہے، جاپان ہے۔ان کے دورے کے دوران وسیع پیمانے پر میڈیا نے کوریج دی اور جیسا کہ میں نے بتایا تھا کہ تین کروڑ افراد تک پیغام پہنچا۔تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔انسانی کوشش سے یہ بھی نہیں ہوسکتا۔انسانی کوشش کا تو یہ حال ہے کہ آسٹریلیا میں جو ہمارے سیکرٹری خارجہ تھے یا پریس کے ساتھ ان کا تعلق تھا، انہوں نے وہاں کا جو صوبائی اخبار تھا اُس کے نمائندے کو ایک انٹرویو لینے کے لئے کہا۔اُس نے کہا میں انٹرویو کے لئے آ جاؤں گا اور عین وقت پر اُس نے معذرت کر لی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا کہ اُس نے معذرت کی اور پندرہ