خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 731
خطبات مسرور جلد 12 731 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 دسمبر 2014ء نہیں ہونی چاہئے۔خلیفہ وقت ملکی قوانین کی سب سے زیادہ پابندی کرتا ہے، کرنے والا ہے اور کروانے والا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : اولی الامر سے مراد جسمانی طور پر بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے۔“ ( ضرورة الامام، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 493) پس حکومت کے دنیاوی نظام کے اندر ایک روحانی نظام بھی چل سکتا ہے اور چلتا ہے اور ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم اس روحانی نظام کا حصہ ہیں اور امام الزمان کے نظام کو جاری کرنے کے لئے ہی اللہ تعالیٰ شکر کا نے خلافت کا نظام بھی جاری فرمایا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی حکومت دلوں میں قائم کرنے کے لئے کوشش کرتا ہے۔اور تنازعہ کی صورت میں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔یہ بھی ہم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ خلافت کا نظام ہم میں جاری ہے ورنہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانے کے بارے میں مختلف فرقوں اور فقہاء کی اپنی اپنی تشریح ہے، تفسیریں ہیں اور بعض ایسی ہیں جو معاملوں کو سلجھانے کے بجائے الجھانے والی ہیں اور الجھا سکتی ہیں۔اسی طرح حکومت وقت کے ساتھ معاملات میں بھی مختلف نظریات مختلف مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔پس ایک اجتہاد اور فیصلہ خلافت کے تابع رہ کر ہی ہو سکتا ہے اور اس بات پر احمدی جتنا بھی شکر کریں وہ کم ہے۔اور اس کے اظہار خلافت کی مکمل اطاعت سے ہی ہو سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پھر یہ بھی فرمایا اور یہ بڑی اہم بات ہے کہ اطاعت اگر سچے دل سے کی جائے تو دل میں ایک نور اور روح میں ایک لذت و روشنی آتی ہے اور یقینا اس سے مراد روحانی نظام کی اطاعت ہے اور ہر ایک کے لئے اپنی اطاعت کے ماپنے کا یہ معیار ہے کہ کیا دل میں نور پیدا ہو رہا ہے اطاعت سے روح میں لذت روشنی آ رہی ہے؟ اگر ہر ایک خود اس پر غور کرے تو وہ خود ہی اپنے معیار اطاعت کو پر کچھ لے گا کہ کتنی ہے۔کس قدر وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر رہا ہے کس قدر وہ رسول کی اطاعت کر رہا ہے اور کس قدر مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ قائم کردہ نظام خلافت کی اطاعت کر رہا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بعد کوئی نور حاصل نہیں ہوتا تو آپ نے فرمایا اس کا کوئی فائدہ نہیں۔حکومت وقت کی اطاعت سے امن اور سکون تو پیدا ہو گا لیکن روحانی روشنی اور لذت روحانی نظام کی اطاعت میں ہی ہے۔پھر اپنے روحانی معیار کو بلند کرنے کے لئے ایک نکتہ آپ نے یہ بیان فرمایا کہ مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں جتنی اطاعت کی ہے۔انسان جتنے چاہے مجاہدات کرتار ہے لیکن اگر اطاعت نہیں تو نہ ہی انسان کو روحانی لذت اور روشنی مل سکتی ہے ، نہ زندگی کا سکون مل سکتا